خطبات محمود (جلد 15) — Page 156
خطبات محمود۔۱۵۶ سال ۱۹۳۴ء غرض کیلئے رکھے ہوتے ہیں کہ جب ان کے پاس کوئی شخص لباس بنوانے آئے تو وہ ان ماہرین فن سے تجویز کراتے ہیں کہ اس قسم کے رنگ کے آدمی پر کس قسم کا کپڑا زیب دے گا۔یا کس قسم کی ٹوپی اس قسم کے سر پر سجے گی۔غرض جسم کی بناوٹ کے لحاظ سے رنگ کے لحاظ سے قد کے لحاظ سے ڈبلا پن یا موٹاپے کے لحاظ سے نقشوں کے موٹے اور بھدے یا دیکھے ہونے کے لحاظ سے ہر انسان پر مختلف قسم کا لباس زینت دیتا ہے اور اگر اپنے جسم کے رنگ، قد، بناوٹ، موٹاپے یا دبلا پن وغیرہ کے لحاظ سے موزوں لباس کا انتخاب کیا جائے تو وہ لباس اسی جسم کو جو بدنما ہوتا ہے خوبصورت اور لوگوں کی نگاہ میں دل کش بنا دیتا ہے۔اس کے بعد فرمایا- وَلِبَاسُ التَّقْوَى ذَلِكَ خَيْرٌ - تقویٰ کو بھی ہم نے لباس بنایا ہے اور وہ ظاہری لباس سے زیادہ اچھا ہے۔جب تقویٰ کو اللہ تعالیٰ نے لباس سے مشابہت دی اور اسے ظاہری لباس سے زیادہ اچھا قرار دیا تو ضروری ہے کہ وہ دونوں باتیں جو لباس کے متعلق بیان کی گئی ہیں، تقویٰ اختیار کرنے پر بدرجہ اولی پائی جائیں۔اور اس آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ تقویٰ کسی ایک مقام کا نام نہیں بلکہ اس کے مختلف مدارج ہیں۔لباس کے دو کام بتائے گئے ہیں۔ایک کام اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ وہ عیبوں کو چھپاتا ہے اسی طرح جب تقویٰ بھی ایک لباس ہے تو اس کا بھی یہ کام ہے کہ وہ انسانی عیبوں کو چھپائے لیکن چونکہ بعض ایسی بھی ہستیاں ہوتی ہیں جو عیوب سے مبرا ہوتی ہیں جیسے رسول کریم کہ آپ میں کوئی عیب تھا ہی نہیں اس لئے بتایا کہ گو تقویٰ کا ایک مقام یہ ہے کہ وہ عیبوں کو چھپاتا ہے مگر اس کا دوسرا کام ریسا بھی ہے یعنی زینت کا موجب بنتا ہے جیسے محمد ﷺ کا مقام تھا کہ آپ کے تقویٰ نے آپ کی خوبصورتی اور باطنی حسن کو نمایاں کر دیا۔غرض لباس کے متعلق دو باتیں بیان کرنے کے بعد تقویٰ کا ذکر کرنے سے اللہ تعالٰی نے دو ہی باتیں بتائیں ایک تو یہ بتایا کہ تقویٰ کے بھی مختلف مدارج ہیں اور انسان ایسی حالت میں بھی متقی کہلا سکتا ہے جبکہ اس میں بعض کمزوریاں پائی جاتی ہوں اور تقویٰ کا کام یہ ہوتا ہے کہ اس کی کمزوریوں کو ڈھانپ دے۔دوسری بات اس سے یہ معلوم ہوئی کہ تقویٰ اعمال کا نام نہیں۔اگر اعمال کا نام ہوتا تو تقویٰ کے باوجود کسی شخص سے بُرے اعمال کیوں سرزد ہوتے۔حقیقت یہ ہے کہ اعمال کا حُسن و فتح اور چیز ہے اور تقویٰ اور چیز۔پس یاد رکھنا چاہیئے کہ تقویٰ ایک قلبی کیفیت کا نام ہے انسان ہزار نیکیاں کرے اگر اس کے اندر تقویٰ نہیں پایا جاتا تو اس کے عیوب چُھپ نہیں سکتے۔ا