خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 98 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 98

خطبات محمود ۹۸ 11 سال ۱۹۳۴ء سالکین میں نام دینے والوں کو چند ضروری اور اہم ہدایات فرموده ۲۳- مارچ ۱۹۳۴ء) تشہد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- میں نے امسال جلسہ سالانہ کی تقریر میں سالکین کی جماعت کے متعلق اعلان کیا تھا۔دنیا میں انسان کی اصلاح دو طرح سے ہو سکتی ہے۔ایک فوری اصلاح جو ایمان کے ذریعہ ہو جاتی ہے اور ایک آہستگی سے جس کیلئے مجاہدہ کی ضرورت ہوتی ہے۔بعض دفعہ ایمان اپنے اندر اس قدر طاقت رکھتا اور اس قدر شدید ہوتا ہے کہ انسانی اعمال کی اصلاح صرف اسی سے ہو جاتی ہے۔یہ ایمان بھی آگے دو قسم کا ہوتا ہے۔ایک وہ جو باہر سے آتا ہے اور ایک وہ جو اندر سے پیدا ہوتا ہے۔جو ایمان باہر سے آتا ہے اس کا موجب دلائل، معجزات اور مشاہدات ہوتے ہیں لیکن جو اندر سے پیدا ہوتا ہے اس کے موجبات بہت باریک ہوتے ہیں۔یہ موقع نہیں کہ ان کی تفصیلات بیان کر سکوں۔اس ایمان کو موهبت الہی کہتے ہیں اور یہ انبیاء ہی کو حاصل ہوتا ہے۔یعنی پیشتر اس کے کہ ان پر دلائل نازل ہوں، الہام پائیں اور مشاہدات سے تقویت حاصل کریں ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے کے ساتھ ہی ان کے دل میں ایسی بتِ الہی ہوتی ہے جو نفس کی اصلاح خود بخود ہی کر دیتی ہے اور مشاہدات و معجزات سے وہ صرف ترقی حاصل کرتے ہیں۔یہ اندرونی ایمان ہوتا ہے اور بسا اوقات خصوصاً انبیاء کی صورت میں یہ شکم مادر سے ہی انسان کے ساتھ آتا ہے پس جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ ایمان کبھی باہر سے بھی آتا ہے اور دلائل ومشاہدات اور معجزات اس کا موجب ہوتے ہیں۔اس وقت بھی اس