خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 97 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 97

خطبات محمود 92 سال ۱۹۳۴ء کسی سے ڈرنے والے ہوتے تو عدم تعاون کی تحریک کے ایام میں جب حکومت سے ہمدردی کا نام لینا بھی اپنے آپ کو مصیبت میں مبتلاء کرنے کے مترادف تھا اور جب حکومت کے بڑے بڑے محکام بھی چُھپ کر کانگرسیوں کو چندہ دیتے تھے، اُس وقت ہم سینہ سپر ہو کر اس تحریک کی مخالفت نہ کرتے۔پس ہمیں حکومتوں کی دھمکیوں، فوجوں کی دھمکیوں یا لوگوں کی دھمکیوں کی کوئی پروا نہیں صرف ایک چیز ہے جس کی ہمیں پروا ہے اور وہ احمدیت کا نام ہے۔صرف اسے بدنامی سے بچانا ہمارے مد نظر ہونا چاہیئے اور اس کیلئے ہمیں خواہ کسی کے سامنے گردن مجھکانی پڑے، فروتنی اختیار کرنی پڑے، اس کیلئے تیار رہنا چاہیے۔پس کوشش کرو کہ احمدیت کا نام جہاں آئے دشمن کی باچھیں کھل جائیں اور وہ سمجھ لے کہ اس پر اعتماد کیا جاسکتا ہے۔ابھی تھوڑے دن ہوئے ایک دوست مجھ سے ملنے آئے اور سناتے تھے کہ میں ایک انگریز افسر سے ملا اور اُسے کہا کہ مجھے فلاں زمین دے دو۔اُس نے کہا اس کیلئے تو روپیہ کی ضرورت ہے مگر تمہارے ساتھ خاص سلوک کرتا ہوں کہ تم صرف ضمانت دے کر لے سکتے ہو۔انہوں نے کہا احمدیت سے بڑھ کر ضمانت اور کیا ہو سکتی ہے اور میں احمدی ہوں۔اِس پر اُس نے زمین ان کو دے دی۔اس وقت تک احمدیت بالکل نیک نام ہے۔دشمن بھی زبان سے خواہ کچھ کہیں ان کے دل ضرور تسلیم کرتے ہیں اور تمہارا فرض ہے کہ اس نیک نامی میں اضافہ کرو تا جماعت جتنی بڑھتی جائے اتنی ہی زیادہ نیک نام ہوتی جائے۔جیسا کہ کہتے ہیں کہ ایرانی قالین پر جتنی صدیاں زیادہ گزریں اُتنا ہی زیادہ چمکدار ہوتا ہے۔میں نے ایک مختصر اور سبق آموز حکایت میں رسول کریم ﷺ کا طریق عمل اور آپ کی نصیحت بیان کردی ہے لیکن اگر کوئی اس پر عمل نہ کر سکے تو میں اسے یہی کہوں گا کہ مجھے اور میری اونٹنی کو چھوڑ دو اور دین کے کام کو زیادہ خراب نہ کرو۔(الفضل ۲۲- مارچ ۱۹۳۴ء)