خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 99

خطبات محمود ٩٩ سال ۱۹۳۴ء کے ذریعہ ایسی اصلاح ہوتی ہے کہ انسان مجاہدات کے بغیر ہی اپنے عیوب پر غالب آجاتا ہے۔جیسا کہ میں نے کئی دفعہ ذکر کیا ہے۔ایک بزرگ کے متعلق آتا ہے کہ پہلے وہ ڈاکے ڈالا کرتے تھے۔وہ ہارون الرشید کے زمانہ میں گزرے ہیں۔ایک دفعہ اتفاق ایسا ہوا کہ وہ کسی قافلہ کے انتظار میں کسی ایسی جگہ کر بیٹھے تھے کہ گزرے تو لوٹ لیں۔اتنے میں ایک قافلہ ادھر سے گزرا جس میں کوئی شخص خوش الحانی سے اَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللهِ پڑھ رہا تھا۔اسے معلوم بھی نہ تھا کہ کوئی شخص سن رہا ہے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ مومنوں کے دل اللہ تعالیٰ کی طرف مجھک جائیں اور ان کے اندر انابت پیدا ہو۔اس آواز کا کان میں پڑنا تھا کہ اس ڈاکو کی حالت بدل گئی اور اس پر ایسی پاکیزگی کی حالت طاری ہوگئی کہ رقت کے مارے بُرا حال ہو گیا۔وہ فوراً وہاں سے چلے اور جن جن لوگوں کا مال لوٹا تھا ان کے پتے دریافت کر کر کے انہیں لوٹا دیا اور باقی خیرات کر دیا ہے۔ان کے استغناء کا یہ تھا کہ مکہ میں جارہے تھے۔ہارون الرشید نے جو ایسے زمانہ میں تھا کہ جو رسول کریم ﷺ کے زمانہ سے قریب تھا، یعنی ابھی پوری دو صدیاں بھی نہیں گزری تھیں اس لئے اُس وقت بڑے بڑے علماء موجود تھے اور بعض ایسے بزرگ بھی تھے جن کا نام تاریخی طور پر اسلام میں زندہ رہے گا اُس نے اپنے وزیر جعفر سے کہا کہ مجھے کسی بزرگ سے ملاؤ تا میرے دل کی صفائی ہو۔اُس نے کئی بزرگوں سے ملاقات کرائی مگر ہر بار وہ یہی کہتا کہ صفائی نہیں ہوئی۔آخر وہ حج کیلئے مکہ آئے تو جعفر نے کہا کہ چلو فضیل کے پاس چلیں۔یہ ان کے مکان پر گئے اور جاکر دستک دی۔ان کا کوئی عزیز یا خادم آیا اور دریافت کیا کہ کیا کام ہے۔جعفر نے بتایا کہ ہارون الرشید ملنے آئے ہیں۔انہوں نے کہلا بھیجا کہ بادشاہ کو مجھ سے کیا کام ہو سکتا ہے۔میرا مقام اور ہے اور ان کا اور جعفر نے یہ الحاح کہا کہ ضرور ملاقات کی اجازت دی جائے اور جب کچھ اثر نہ ہوا تو کہا کہ ہارون الرشید امیرالمؤمنین کی حیثیت سے حکم دیتے ہیں۔اس پر انہوں نے اجازت دے دی۔جب ملاقات ہوئی تو ہارون الرشید نے کہا مجھے کوئی نصیحت کیجئے۔آپ نے چند نصائح کیں جن سے اس پر بہت رقت طاری ہوئی۔جاتے وقت اس نے کچھ روپیہ آپ کی خدمت میں پیش کیا مگر آپ نے کہا کہ یہ روپیہ کوئی تمہارے باپ کا تو ہے نہیں، تمہاری کمائی کا نہیں، تمہارا ذاتی نہیں، بیت المال کا روپیہ ہے اور تمہارے سپرد اس