خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 517 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 517

خطبات محمود ۵۱۷ سال ۱۹۳۴ء میرا یہ مطلب تو نہیں تھا۔اسی طرح مومن پر مصائب اور دکھ آتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ دیکھتا ہے کہ میرے اس بندہ کو مجھ سے کتنی محبت ہے اور جب وہ بندہ اپنے آپ کو غلام سمجھتا اور عمل سے ثابت کردیتا ہے کہ اب میں خدا کا در چھوڑ کر کہیں نہ جاؤں گا اور اس امتحان میں پاس ہو جاتا ہے تب اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے دروازے اس پر کھلتے ہیں اور اللہ تعالی اس بندے کے متعلق فرماتا ہے انّي قَرِيب جس کے معنی سوائے اس کے اور کیا ہیں کہ خدا تعالیٰ ہر وقت اس کے ساتھ رہے اور جب کوئی بندہ اس حد تک پہنچے تو سمجھ لے کہ اس نے خدا کو پالیا۔اللہ تعالیٰ نے اِنّى قَریب میں بتایا ہے کہ بندہ تو معذور ہے کہ مجھ تک پہنچ سکے، اس لئے میں اس کے پاس آجاتا ہوں اور جب بھی وہ مجھے پکارے میں اس کی دعا کو قبول کرتا ہوں۔ادھر اس کی آواز نکلتی ہے اور ادھر قبول کی جاتی ہے۔اس کے بعد فرمایا فَلْيَسْتَجِيْبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِی یعنی ان کو بھی چاہیے کہ میری باتوں کو زیادہ سے زیادہ قبول کریں اور کیسے بھی ابتلاء ان پر آئیں شک میں نہ پڑیں کہ شاید ہم تباہ ہونے لگے۔اپنے پر یقین رکھیں کہ وہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا بلکہ ان ابتلاؤں کے نتیجہ میں ہمیں اور ترقی بخشے گا۔پھر فرمایا۔لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ ابھی تک تو مجھ کو ان تک آنا پڑتا ہے مگر جب وہ یہ مقام حاصل کرلیں گے تو پھر ان کے اندر یہ طاقت پیدا ہو جائے گی کہ وہ خود مجھ تک آسکیں گے۔پہلے انی قریب کہہ کر بتایا تھا کہ میں اس کے پاس آتا ہوں مگر یر شُدُونَ کہہ کر بتایا کہ بندہ میں ترقی کرتے کرتے ایک قسم کی الوہیت پیدا ہو جاتی ہے۔پہلے اس کی مثال ایسی وتی ہے جیسے نابینا آدمی کے پاس اس کا دوست بیٹھا رہے مگر پھر یہ مقام حاصل ہو جاتا ہے کہ جیسے بینا کے سامنے اس کا محبوب بیٹھا ہو۔پس یہ دن برکت کے ہیں ان سے پورا پورا فائدہ نہ صرف ظاہری بلکہ روحانی رمضان بھی اپنے اوپر وارد کرو اور قربانی کا جو موقع ملے اسے اللہ تعالیٰ کا فضل سمجھو تب تم عبادی میں داخل ہو سکو گے۔دیکھو خان بہادری کا خطاب حاصل کرنے کیلئے لوگ لاکھ لاکھ دو دولاکھ روپیہ خرچ کر دیتے ہیں حالانکہ خان بہادر اگر بادشاہ کے دروازے میں بھی گھنے لگے تو پولیس پکڑ کر جیل میں ٹھونس دے کہ یہ بدنیتی سے داخل ہو رہا ہے۔مگر خدا کیلئے انسان جو قربانی کرتا ہے اس کے بدلہ میں پہلے تو خدا اس کے پاس آتا ہے مگر جب وہ ترقی کرتا جائے تو خود بھی اس کے پاس پہنچنے کے قابل ہو جاتا ہے اور اس کی مثال ایسی ہو جاتی ہے کہ جیسے پہلے بچہ گہوارہ میں پڑا اٹھاؤ