خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 518 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 518

خطبات محمود ۵۱۸ سال ۱۹۳۴ء ہوا جب روتا ہے تو ماں دوڑ کر اس کے پاس پہنچ جاتی ہے لیکن بچہ جب ذرا بڑا ہو جائے اور اس کی ماں کسی کام میں لگی ہو تو وہ خود دوڑ کر اس کے پاس جا پہنچتا ہے۔جب انسان ابتدائی حالت میں قربانی کرتا ہے تو وہ کمزور ہوتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا انی قریب۔میں اس کے پاس پہنچ جاتا ہوں مگر جب سختیوں اور مصیبتوں کے ذریعہ وہ ترقی کرتا ہے تو اس کے اندر ایسی طاقت پیدا ہو جاتی ہے کہ خود خدا تک پہنچ سکتا ہے۔گہوارہ میں پڑے ہوئے بچہ کو تو کبھی اس کی ماں جھڑک بھی دیتی ہے کہ کام نہیں کرنے دیتا اور اس کے رونے کی پرواہ نہیں کرتی مگر جب و جب وہ خود چلنے پھرنے کے قابل ہو جائے تو خود اس کے پاس جا پہنچتا ہے اور وہ خواہ چولہے کے پاس ہو، اسے جاچٹتا ہے اور لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ کا یہی مطلب ہے کہ انسان ترقی کرتے کرتے خداتعالی تک پہنچ جاتا ہے۔اس کے بعد میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جلسہ کے دن قریب ہیں۔خطبہ کے پہلے حصہ کے بعد مجھے اب کچھ زیادہ اس کے متعلق کہنے کی ضرورت نہیں اس لئے مختصراً یہ ہدایت کرتا ہوں کہ جو لوگ اپنے مکان دے سکیں، وہ مکان دیں، جو اپنے آپ کو خدمت کیلئے پیش کر سکیں اپنے آپ کو پیش کریں اس بوجھ کو اٹھانے کیلئے ہر طرح تیار رہیں اور ہر تکلیف جو اس سلسلہ میں پہنچے، اسے بخوشی برداشت کریں اور جو کام بھی کرنا پڑے خوشی اور بشاشت سے کریں۔وَلِتُكَبِّرُوا الله کے ارشاد کے ماتحت اللہ تعالی کی تکبیر کریں کہ اس نے اس کی توفیق عطا فرمائی اور پھر اس پر اس کا شکریہ ادا کریں کہ اس نے اس نکتہ کو سمجھنے کی توفیق دی۔وقت زیادہ ہو گیا ہے اس لئے میں زیادہ بیان نہیں کر سکتا۔مگر باہر کے دوستوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ دشمن نے یہاں آکر یہ بتانا چاہا ہے کہ وہ قادیان میں اپنی شوکت دکھانا چاہتا ہے اس لئے انہیں بھی چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں یہاں آئیں اور دشمن کو بتادیں کہ ہم گیدڑ بھبکیوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں اور مرکز کی طرف زیادہ سے زیادہ کشش رکھتے ہیں۔زیادہ تعداد میں آنے سے میرا یہ مطلب نہیں کہ عورتوں اور بچوں کو زیادہ تعداد میں لائیں۔جو لوگ اپنے بیوی بچوں کو لانے کا ارادہ کر چکے ہیں وہ ان کو بھی لائیں مگر کوشش یہ کی جائے کہ مرد زیادہ سے زیادہ آئیں اور ساتھ غیر احمدیوں کو بھی لائیں۔میرا مطلب یہ ہے کہ میرے اس خطبہ کی تحریک کے نتیجہ میں عورتوں اور بچوں کو نہ لائیں بلکہ مردوں کو لانے کی کوشش کریں لیکن میں عورتوں کو جو ہمیشہ آتی ہیں۔یا جو پہلے۔ارادہ کر چکی ہیں لانے سے منع بھی نہیں کرتا۔