خطبات محمود (جلد 15) — Page 516
خطبات محمود ۵۱۶ سال ۱۹۳۴ اور اس کی بڑائی کرتا ہے ورنہ منہ کی تکبیریں کسی کام نہیں آسکتیں۔پھر فرمایا وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ- یہ رمضان ہم نے اس لئے اُتارا ہے کہ تم شکر گزار بنو۔یعنی تکبیر کے بعد شکر کرو کہ خدا نے اپنی تکبیر کی توفیق دی اور پھر اس بات کا شکر کرو کہ خدا نے اپنے شکر کی توفیق دی اور پھر اس شکر کی توفیق ملنے پر شکر کرو اور اس طرح اللہ تعالی کے شکر کا یہ ایسا لامتناہی سلسلہ شروع ہو جائے گا کہ انسان ہر وقت اسی کے دروازہ پر گرا رہے گا اور اس غلام کی طرح ہو جائے گا جو کسی صورت میں اپنے آقا کو نہیں چھوڑ سکتا۔اور یہی وہ بندے ہیں جن کے متعلق فرمایا- وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِى عَنِى فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ۔اور جس کے اندر یہ حالت پیدا نہیں ہوتی، وہ خدا کا بندہ نہیں شیطان کا بندہ ہے۔لیکن جو بندے ایسے ہوں کہ ابتلاء آنے اور تکلیف نازل ہونے پر خوش ہوں اور ان کی مثال لقمان کی سی ہو جائے جن کے متعلق آتا ہے کہ ان کے آقا کے پاس بے موسم کا خربوزہ آیا۔چونکہ آقا کو آپ سے بہت محبت تھی اس نے کاٹ کر آپ کو ایک قاش دی اور آپ نے مزے سے کھائی۔اس نے ایک اور دی اور وہ بھی آپ نے اس طریق سے کھائی کہ گویا بہت مزیدار ہے۔اس پر اس نے خود بھی ایک قاش منہ میں ڈالی تو وہ سخت کڑوی تھی۔اس نے کہا کہ آپ نے مجھے بتایا کیوں نہیں کہ یہ کڑوی ہے اور حیرت سے کہا کہ تم پر میں نے اتنا بڑا ظلم کیا اور تم نے بتایا تک نہیں کہ یہ سخت کڑوی ہے۔آپ نے کہا کہ میں نے آپ کے ہاتھ سے اس قدر میٹھی قاشیں کھائی ہیں اور اگر ایک دو کڑوی کھانے پر منہ بناتا تو مجھ سے زیادہ بے حیا کون ہوتا۔یہی سچے مومن کی علامت ہے۔اسے جب ٹھوکر لگتی ہے، جب قربانی کرنی پڑتی ہے، لوگ تو سمجھتے ہیں کہ اس پر مصیبت آئی ہے مگر وہ سمجھتا ہے کہ مجھ پر میرے رب کا احسان ہوا ہے۔کتے کو دیکھو، مالک ناراض ہو کر ٹھوکریں مارتا ہے مگر وہ پھر بھی اس کے بوٹ چاہتا ہے تو کیا وفادار انسان کے اندر کتے جتنی وفا بھی نہیں ہونی چاہیئے۔یہی وفاداری ہے جو اگر انسان کے اندر پیدا ہو جائے تو وہ خدا کا بندہ بن جاتا ہے۔غلام کو دیکھو اس کا آقا خواہ کتنا اسے دھتکارے ، وہ اس کے مکان سے باہر نہیں جا سکتا۔آج کل غلام تو نہیں ہوتے مگر بعض زمینداروں کے گھروں میں اس کی مثال ملتی ہے۔وہ خاوند بعض اوقات ناراض ہو کر بیوی سے کہہ دیتا ہے کہ نکل جا میرے گھر سے مگر کیا نکل جاتی ہے ؟ نہیں بلکہ اگر وہ نکلنے بھی لگے تو خاوند خود ہی چمٹ جائے کہ کہاں جاتی ہو۔