خطبات محمود (جلد 15) — Page 45
خطبات محمود ۴۵ سال ۱۹۳۴ ء سے روپیہ لے کر اسے ترقی نہ دے تو کیا کرے۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ صبر کرے۔دس ہزار روپیہ اس کے لئے کافی ہے، اسی پر وہ گزارہ کرتا رہے۔مگر جس وقت یہ سوال پیش کیا جائے کہ ایک غریب آدمی بھوک سے مر رہا ہے، کھیتی اس کی نہیں ہوئی، اناج اس کے گھر میں نہیں آیا، بارشیں وقت پر نہیں برسیں ، ایسی صورت میں اگر وہ اپنی زمین کیلئے روپیہ مانگتا ہے تو بغیر سود کے لوگ اُسے دیتے نہیں اب وہ کیا کرے؟ اگر وہ بیل نہ خریدے گا تو کھیتی کس طرح کرے گا۔یا عمدہ بیچ نہیں لے گا تو وہ اور اس کے بیوی بچے کہاں سے کھائیں گے اس کیلئے ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ کہ وہ روپیہ قرض لے مگر جب لوگ اسے بغیر سود کے قرض نہ دیں تو وہ کیا کرے۔جب یہ سوال پیش کیا جاتا ہے تو اس کا جواب دینا ذرا مشکل ہو جاتا ہے اور در حقیقت یہی وہ سود ہے جس کے حالات اور کوائف سننے کے بعد انسان حیرت میں پڑ جاتا ہے کہ وہ کیا جواب دے۔مالدار آدمی کو تو جھٹ ہم یہ جواب دے سکتے ہیں کہ سود روپیہ مت دو اگر دس ہزار روپیہ ہے تو اسی پر کفایت کرو سود کے ذریعہ زیادہ بڑھانے کی کیا ضرورت ہے مگر ایک غریب آدمی کو ہم یہ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ اسی حالت پر کفایت کرو۔اس کو تو ایک ہی جواب دیا جاسکتا ہے کہ بھوکے رہو اور مرجاؤ۔مگر یہ کوئی ایسا معقول جواب نہیں جس سے ہمارے نفس کو تسلی ہو یا سائل کے دل کو اطمینان حاصل ہو پس ہمیں دیکھنا چاہیے کہ اسلام نے اس کا کیا حل رکھا ہے۔اگر ہم اسلامی تعلیم پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے اس سوال کا یہ جواب دیا ہے کہ غریب آدمی تو ایسا ہوتا ہے جس کے پاس روپیہ نہیں مگر جائداد ہوتی ہے اس کے لئے تو یہ صورت ہے کہ جائداد رہن رکھے اور روپیہ لے لے۔مگر ایک ایسا غریب ہوتا ہے جس کے پاس جائداد بھی نہیں ہوتی جسے رہن رکھ سکے یا اگر جائداد ہوتی ہے تو وہ اس قسم کی ہوتی ہے کہ اگر وہ اسے رہن رکھ دے تو اس کا کاروبار بند مثلاً زمیندار ہے اگر وہ زمین رہن رکھ دیتا ہے تو وہ کھیتی باڑی کہاں کرے گا۔اپنے مکان کی چھت یا صحن میں تو وہ کھیتی نہیں کر سکتا۔ان حالات میں اسلام نے یہ رکھا ہے کہ ایک طرف تو امراء پر ٹیکس لگادیا جس سے غرباء کی امداد کی جاسکتی ہے اور دوسری طرف کہا کہ جب ٹیکس سے بھی کسی غریب کی ضرورت پوری نہ ہو تو جو اس کے دوست واقف کار یا محلے والے ہوں، وہ اسے قرض حسنہ دیں۔یہ ایک ایسا نظام ہے کہ اگر اس کے تمام پہلوؤں کو مد نظر نہ رکھا جائے تو ایک صورت ہو جاتا ہے۔