خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 46

خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء کبھی کام نہیں دے سکتی۔مگر ہمارے لئے اس میں بھی کئی رکاوٹیں ہیں کیونکہ اسلام نے امراء جو کئی قسم کے ٹیکس لگائے ہیں، وہ ہم وصول نہیں کرسکتے کیونکہ گورنمنٹ وصول کرلیتی ہے۔زکوٰۃ اگرچہ آتی ہے مگر وہ بہت ہی کم ہوتی ہے۔پس جبکہ امراء کے ٹیکسوں سے ہم اپنی جماعت کے غرباء کی ضرورت کو پورا کرنے سے قاصر ہیں تو ہمارے لئے ایک ہی صورت رہ جاتی ہے اور وہ یہ کہ ہم اپنی جماعت سے کہیں کہ امیر آدمی غرباء کو ضرورت کے وقت قرض حسنہ دیا کریں۔اور کبھی کبھار میں جماعت کو کہتا بھی رہتا ہوں مگر جس حد تک کہنے احساس پیدا ہو سکتا ہے وہ میں نہیں کہتا اور نہیں کہہ سکتا اور آج اسی کے متعلق میں بیان کرنا چاہتا ہوں کہ میں کیوں جماعت کو زیادہ زور کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ امیر غرباء کو قرض حسنہ دیا کریں۔میرے نہ کہہ سکنے کی وجہ یہ ہے کہ میرے پاس جس قدر مالی جھگڑے آتے ہیں ، ان میں سے ننانوے فیصدی ایسے ہوتے ہیں جن میں مجھے نظر آرہا ہوتا ہے کہ مقروض قرض واپس کرنے سے گریز کر رہا ہوتا ہے اور ایک فیصدی جھگڑا میرے سامنے ایسا آتا ہے جس میں مجھے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قرضہ دینے والا مطالبہ میں سختی کر رہا ہے مگر نانوے فیصدی وہ لوگ ہوتے ہیں جو قرضہ لیتے ہیں اور پھر واپس نہیں کرتے بلکہ گریز کرتے اور قرض دینے والے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔جو شخص قرض لے کر واپس نہیں کر سکتا اس کے متعلق تو ہماری شریعت کا یہ حکم ہے کہ فَنظِرَةٌ إِلى مَيْسَرَةٍ و کشائش تک اُسے مہلت دینی چاہیے۔اور ایسا انسان جو واقعہ میں تنگی میں ہو اور مالی مشکلات کی وجہ سے روپیہ ادا نہ کر سکتا ہو ، میں نہیں سمجھ سکتا کہ کوئی معقول پسند انسان یہ کہے کہ مجھے اس سے روپیہ دلوا دیجئے۔ہم یہی پوچھیں گے کہ ہم کہاں سے دلوائیں۔وہ تو خود کئی قسم کی مشکلات میں مبتلاء ہے۔لیکن جو میری نظر میں کیس آتے ہیں وہ ننانوے فیصدی ایسے ہوتے ہیں کہ قرض لینے والے کا حق ہی نہیں ہوتا کہ قرض لے۔اور جب میں یہ کہتا ہوں کہ قرض لینے والے کا حق نہیں ہوتا کہ قرض لے تو اس سے میری مراد یہ ہے کہ وہ شخص قرض لیتا ہے جسے کہیں سے روپیہ آنے کی امید ہی نہیں ہوتی۔میرے نزدیک جو شخص اس حالت میں قرض لیتا ہے جبکہ اُسے کہیں سے روپیہ آنے کی امید نہیں ہوتی اور وہ دوسرے پر اپنی غربت کا اثر ڈال کر اُس سے روپیہ کھینچ لیتا ہے، وہ دھوکے باز اور فریبی ہے۔جب اُسے معلوم ہے کہ مجھے روپیہ کہیں سے نہیں آنا تو وہ قرض لیتا ہی کیوں ہے اور جب اس نے بعد میں تقاضوں پر دوسرے کو یہ جواب دینا ہے کہ میں کیا -