خطبات محمود (جلد 15) — Page 44
خطبات محمود سهام سهام سال ۱۹۳۴ ء قرض اور سود کے متعلق اسلام کی تعلیم (فرموده ۹- فروری ۱۹۳۴ء) ہی کامل طور پر تعوز اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- اسلام نے تمدنی معاملات کے متعلق ایک ایسی تعلیم دی ہے جو اپنی ذات میں گو نہایت مکمل ہے لیکن جب تک اسے اپنے تمام پہلوؤں کے ساتھ مد نظر نہ رکھا جائے اور اس پر عمل نہ کیا جائے وہ مفید نتائج پیدا نہیں کر سکتی۔مثلاً اسلام نے سود سے روکا ہے۔سود دنیا میں دو قسم کا ہوتا ہے۔ایک وہ سود جو مالدار آدمی اپنے مال کو اور بڑھانے کے لئے دوسرے مالداروں سے رقم لے کر اُن کو ادا کرتا ہے جیسے تاجر پیشہ لوگ یا بینک والے کرتے ہیں۔اور ایک وہ سود ہے جو غریب آدمی اپنی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے کسی صاحب استطاعت سے قرض لے کر اُسے ادا کرتا ہے۔اسلام نے ان دونوں سودوں سے منع کیا ہے۔اس سود سے بھی روکا ہے جو تجارت یا جائداد کو فروغ دینے کے لئے مالداروں سے روپیہ لے کر انہیں ادا کیا جاتا ہے اور اُس سود سے بھی منع کیا ہے جو غریب آدمی اپنی غربت سے تنگ آکر کسی صاحب استطاعت سے قرض لینے کے بعد اسے ادا کرتا ہے۔اور نہ صرف ایسا سود دینے سے روکا بلکہ لینے سے بھی منع کیا ہے اور نہ صرف سود لینے دینے سے منع کیا بلکہ گواہی دینے والوں اور تحریر کرنے والوں، غرض سب کو مجرم قرار دیا۔تاجر پیشہ لوگوں کے سود کے متعلق تو جب کوئی شخص سوال کرے کہ مثلاً اس کے پاس دس ہزار روپیہ ہے اور وہ اس سے دس لاکھ روپیہ کما سکتا ہے۔اگر وہ بنکوں یا دوسرے افراد کی -