خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 450 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 450

۴۵۰ سیال ۱۹۳۴ء کا سلسلہ برداشت کرلے گا اور باقی اخراجات کھانے پینے ، پہننے کے وہ خود برداشت کریں۔ان کو کوئی تنخواہ نہ دی جائے گی نہ کوئی کرایہ سوائے اس کے جسے بہت دور بھیجا جائے۔آٹھواں مطالبہ وہ ہے جو پہلے شائع ہوچکا ہے یعنی ایسے نوجوان اپنے آپ کو پیش کریں جو تین سال کیلئے اپنی زندگیاں وقف کریں۔اِس وقت تک سوا سو کے قریب نوجوان اپنے آپ کو پیش کرچکے ہیں جن میں سے تیس چالیس مولوی فاضل ہیں۔باقی انٹرنس ایف اے اور بی اے پاس ہیں۔یہ تعداد روزانہ بڑھ رہی ہے۔اور میں سمجھتا ہوں یہ قربانی کی روح کہ تین سال کیلئے دین کی خدمت کیلئے اپنے آپ کو وقف کیا جائے اسلام اور ایمان کے رُو سے تو کچھ نہیں لیکن موجودہ زمانہ کی حالت کے لحاظ سے حیرت انگیز ہے۔وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ جماعت احمدیہ میں لوگ روپیہ حاصل کرنے کیلئے شامل ہوتے ہیں اگرچہ ان کی بات بیوقوفی کی ہے کیونکہ اگر احمدی روپیہ کی خاطر احمدی ہیں تو انہیں روپیہ دیتا کون ہے۔مگر یہ ان کی آنکھیں کھول دینے والی بات ہے کہ جب احمدی نوجوانوں کو تین سال کیلئے اپنے آپ کو وقف کرنے کیلئے بلایا گیا تو مولوی فاضل، انٹرنس پاس ایف اے اور بی-اے سینکڑوں کی کی تعداد میں اپنے آپ کو پیش کر رہے ہیں۔اس قسم کی مثال کسی ایسی قوم میں بھی جو جماعت احمدیہ سے سینکڑوں گئے زیادہ ہو ملنی محال ہے۔وہی جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ آٹھ نو کروڑ مسلمانان ہند کے نمائندے ہیں ایسی مثال تو پیش کریں۔وہ کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے ریاست کشمیر کے خلاف ایجی ٹیشن کے دوران میں ہزاروں آدمیوں کو قید کر دیا تھا لیکن جیسا کہ میں نے پہلے بتایا تھا قید ہونے کیلئے اپنے آپ کو پیش کر دینا اور بات ہے اور کسی مسلسل قربانی کیلئے پیش کرنا اور بات فوری اشتعال دلا کر تو بُزدلوں کو بھی لڑایا جاسکتا ہے۔بدر کی جنگ میں مکہ کے جو رؤساء شریک ہوئے، ان میں اکثر کا یہ خیال ہو گیا تھا کہ جنگ نہ ہو۔انہوں نے کہا مسلمان بھی ہمارے ہی بھائی بند ہیں اگر جنگ ہوئی تو یہی ہوگا کہ ہم ایک دوسرے کو قتل کریں گے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سب لوگ تیار ہو گئے کہ صلح کرلیں مگر ابو جہل جو اس ساری شرارت کا رُوح رواں تھا، مخالفت کرنے لگا اور لوگوں نے اسے سمجھایا کہ جنگ کرنے سے ہماری طاقت بڑھے گی نہیں بلکہ گھٹے گی۔ابو جہل نے اپنا منصوبہ بگڑتا دیکھ کر ایک رئیس مسلمانوں کے ہاتھ سے کچھ عرصہ پہلے مارا گیا تھا اس کے بھائی بندوں میں جوش پیدا کرنا چاہا۔دوسرے رؤساء نے انہیں بلا کر کہا کہ ہم میں دیت کا رواج ہے، ہم تمہارے مقتول کی دیت جو