خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 449 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 449

خطبات محمود ۴۴۹ سال ۱۹۳۴ء کرلے گی مگر باوجود اس کے ایک طبقہ ایسا بھی پیدا ہو جائے گا جس کے دل ہل جائیں گے اور جس کی روح جنبش میں آجائے گی اور خواہ کتنی ہی ہلکی ہو محبت الہی کی ایک بار یک شُعاع اُڑ کر خدا کی محبت کے سورج میں جا جذب ہوگی۔ایک سال میں دو سو نئی جماعتوں کا قائم ہو جانا معمولی بات نہیں۔اس طرح اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو چارپانچ سال میں ہی عظیم الشان تغیر پیدا ہو جائے گا۔مبلغین کو ہم اس طرف نہیں لگا سکتے ان کی بہت تھوڑی تعداد ہے پھر ان کے ذمہ مباحثات اور جماعت کی تربیت کا کام ہے۔ان کی مثال تو اُس دانے کی سی ہے جس کی نسبت کہتے ہیں کہ ”ایک دانہ کس کس نے کھانا" تبلیغ کی وسعت کیلئے ایک نیا سلسلہ مبلغین کا ہونا چاہیے اور وہ یہی ہے کہ سرکاری ملازمین تین تین ماہ کی چھٹیاں لے کر اپنے آپ کو پیش کریں تاکہ ان کو وہاں بھیج دیا جائے جہاں ان کی ملازمت کا واسطہ اور تعلق نہ ہو۔مثلاً گورداسپور کے ضلع میں ملازمت کرنے والا امرتسر کے ضلع میں بھیج دیا جائے، امرتسر کے ضلع میں ملازمت کرنے والا کانگڑہ یا ہوشیار پور کے ضلع میں کام کرے گویا اپنے ملازمت کے علاقہ۔باہر ایسی جگہ کام کرے جہاں ابھی تک احمدیت کی اشاعت نہیں ہوئی اور وہاں تین ماہ رہ کر تبلیغ کرے۔میں سمجھتا ہوں وہ جماعت جو یہ کہتی ہے کہ وہ جان اور مال کی قربانیاں کرنے طرح تیار ہے، اس کیلئے یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے کہ اس میں سے چار سو اصحاب ایسے نکلیں جو اپنی تین تین ماہ کی رخصت اپنے گھروں میں نہ گزاریں بلکہ دوسری جگہ دین کی خدمت میں صرف کریں۔وہاں بھی وہ اپنے ملازمت کے کام سے آرام پاسکتے ہیں۔ہاں زیادہ بات یہ کہ وہاں ان کے ذریعہ جو جماعت قائم ہوگی اس کے نیک اعمال ان کے نامہ اعمال میں بھی لکھے جائیں گے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے جو کسی کے ذریعہ ہدایت پاتا ہے اس کے نیک اعمال اس کے نامہ اعمال میں بھی لکھے جاتے ہیں جس کے ذریعہ اسے ہدایت ملتی ہے اے۔پس اس سکیم پر عمل کرنے سے ایسے شاندار نتائج نکل سکتے ہیں جو باقاعدہ کے ذریعہ پیدا نہیں ہو سکتے اور ملک کے ہر گوشہ میں احمدیت کی صدا گونج سکتی ہے۔ایسے اصحاب کا فرض ہو گا کہ جس طرح ملکانہ تحریک کے وقت ہوا وہ اپنا خرچ آپ برداشت کریں۔ہم اس بات کو مد نظر رکھیں گے کہ انہیں اتنی دور بھیجا جائے کہ ان کیلئے سفر کے اخراجات برداشت کرنے مشکل نہ ہوں اور اگر کسی کو کسی دور جگہ بھیجا گیا تو کسی قدر بوجھ اخراجات سفر