خطبات محمود (جلد 15) — Page 353
سال ۱۹۳۴ء خطبات محمود ۳۵۳ ہے، ان کا نام بھی یونہی لے لیا گیا ہو اور جسے لٹریچر قرار دیا گیا ہے وہ ان کی کسی دوائی کے ساتھ کوئی اشتہار ہو۔مگر بہر حال جب سلسلہ کے کارکنوں نے تحقیق کی تو ثابت ہوا کہ یہاں کے چوکیداروں کا جو دفعدار ہے (اور گو وہ احمدی کہلاتا ہے مگر اس کی کئی شکایتیں پہنچی ہیں کہ وہ جماعت کے خلاف حرکات کرتا رہتا ہے۔اس معاملہ میں ابھی کامل تحقیق نہیں کی گئی مگر اس کے خلاف شکایات ضرور ہیں۔) اس نے کسی دکاندار سے جاکر لٹریچر مانگا کہ پولیس والے مانگتے ہیں اور اس نے آگے اس تھانیدار کو وہ لٹریچر دیا اور اس کا نام فساد کرنا رکھا گیا اور کہا گیا کہ اس سے احرار کیمپ میں فتنہ واقع ہو جائے گا۔اس صورت میں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ تھانیدار احراری تھا اور فساد پر آمادہ۔پندرھواں واقعہ یہ ہے کہ ہم نے متواتر اعلان کیا تھا کہ احرار کے جلسہ میں کوئی احمدی نہ جائے۔اتفاقاً ایک احمدی سکوہا کو جارہا تھا، سکوہا کو راستہ احراریوں کے جلسہ گاہ کے ساتھ ہی جاتا ہے، انہوں نے جونہی ایک احمدی کو جاتے دیکھا اسے فوراً پکڑ کر پولیس کے پاس لے آئے۔سید محمود اللہ شاہ صاحب جو اس وقت ڈیوٹی پر مامور تھے ان کا بیان ہے کہ میں نے جونہی اس کو دیکھا میرے دل نے گواہی دی کہ یہ احمدی ضرور ہے۔اس پر میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کہاں کے رہنے والے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ میں ستکوہا کا باشندہ ہوں۔پھر میں نے تھانیدار سے پوچھا مسکو ہے کا راستہ کہاں سے جاتا ہے۔تو اس نے بے اختیار کہا کہ احراری کیمپ کے عین اوپر سے۔اس پر میں نے بالا افسر کو توجہ دلائی کہ دیکھو یہ شخص اپنے گھر جا رہا تھا اور خواہ مخواہ اس پر فتنہ کا الزام لگایا گیا اور یہ امران کی سمجھ میں آگیا۔غرض ادھر تو اتنی شدت برتی جاتی تھی کہ کوئی احمدی اپنے گھر جاتا ہوا بھی احراری کیمپ کے پاس سے نہ گذرے اور ادھر یہ کوشش کی جارہی تھی کہ کسی طرح بعض احمدیوں کو وہاں بھیجوایا جائے۔میں نے اسی خیال سے یہ حکم دے دیا تھا کہ کوئی احمدی اس جلسہ میں گیا تو میں اس کو جماعت سے خارج کردوں گا۔میں جانتا تھا کہ یہ ایسا مجرم نہیں جس سے کسی شخص کو جماعت سے خارج کیا جاتا مگر میں یہ بھی جانتا تھا کہ اس موقع پر وہی جائے گا جو منافق ہوگا اور اس کی غرض جماعت کو بدنام کرنا ہو گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ بعض مشتبہ آدمیوں کی نسبت رپورٹ آئی کہ وہ احراری کیمپ کی طرف گئے تھے۔جب مجھے ان کی اطلاع دی گئی تو میں نے ذمہ دار افسروں کو کہا کہ گو جماعت سے نکالنا میرے اختیار میں ہے لیکن جب میں آپ کو اس بارہ میں شخص