خطبات محمود (جلد 15) — Page 354
خطبات محمود ۳۵۴ سال ۱۹۳۴ء۔اختیار دے چکا ہوں تو اپنے اختیار کو آپ برتیں۔اس پر ذمہ دار کارکن جماعت نے انہیں جماعت سے خارج کر دیا اس پر ان میں سے ایک شخص کے متعلق ایک مجسٹریٹ نے شکایت کی کہ میں نے اس شخص کو سرکاری کام پر بھیجا تھا لیکن اسے جماعت سے نکال دیا گیا ہے۔اس پر جو افسر بالا افسروں کے ساتھ مقرر تھے انہوں نے احتجاج کیا کہ ایک طرف آپ لوگ اس سختی سے ہمیں روکتے ہیں کہ احمدی وہاں نہ جائیں دوسری طرف آپ کے ماتحت احمدیوں کو ملا ہم سے پوچھے اُدھر بھجواتے ہیں۔کیا اس کے یہ معنی نہیں کہ اس طرح ہمیں بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔غرض اس واقعہ نے بھی بتادیا کہ ہمیں اس موقع پر بدنام کرنے کی پوری کوشش کی گئی مگر اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا۔سولہواں واقعہ یہ ہے کہ ہماری جماعت کے ایک شخص نے گذشتہ دنوں ایک ٹریکٹ لکھا تھا اس کے الفاظ سخت تھے اور گو اس کے مقابلہ میں بیسیوں مثالیں اس امر کی نظر آتی ہیں کہ احمدیوں کو گندی سے گندی گالیاں دی گئیں اور ٹریکٹ اور اشتہاروں میں گالیوں کو شائع کیا گیا مگر ہم نے اس ٹریکٹ کو فوراً ضبط کرلیا اور اس کے خلاف نفرت کا اظہار کیا حالانکہ دوسرے مسلمانوں نے آج تک اپنے کسی آدمی کے متعلق ایسا نہیں کیا۔اس کے بعد گورنمنٹ کی طرف سے اس احمدی پر مقدمہ چلایا گیا اور اسے سزا دی گئی لیکن اس کے مقابلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق سخت سے سخت الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں اور گندی سے گندی گالیاں دی جاتی ہیں مگر کوئی توجہ نہیں کی جاتی اور اگر توجہ کی بھی جائے تو معمولی وار تنگ کردی جاتی ہے۔پس سوال یہ ہے کہ قانون دو کیوں ہیں ہمارے متعلق گند اچھالا جائے تو محض وارننگ کی جاتی ہے لیکن اگر ہمارا آدمی کوئی سخت لفظ لکھ دے تو اس پر مقدمہ کھڑا کیا جاتا ہے اور گو سیشن نے اس کی سزا کو جرمانہ میں تبدیل کر دیا۔مگر بہرحال پہلی عدالت نے اس کو قید کی سزا دی یہ سولہ مثالیں ہیں جو میں نے پیش کی ہیں۔ان سے پتہ چلتا ہے کہ (1) ایک عرصہ سے جماعت کو بدنام کرنے کی کوشش حکومت کے بعض افسران کی طرف سے کی جارہی ہے۔(۲) یہ کوشش چند ماہ سے بہت بڑھ گئی ہے۔(۳) ہمارے خلاف جو شکایات کی جاتی ہیں جب وہ جھوٹی ثابت ہو جاتی ہیں تو پھر بھی بعض اعلیٰ