خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 314 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 314

خطبات محمود وہ وہ سال ۱۹۳۴ء اس غلطی کا اعتراف کرلے تو ہمارا شکوہ دور ہو سکتا ہے۔مومن کبھی کینہ تو ز نہیں ہوتا اور نہ غصہ اپنے دل میں رکھتا ہے بلکہ وہ بنی نوع انسان کی اصلاح چاہتا ہے اور یوں بھی اگر ہمارے مد نظر اصلاح نہ ہو تو ہمیں اس سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے کہ گورنمنٹ اپنی غلطی کا اقرار کرلے۔ہم صرف اس لئے یہ سوال اٹھانا چاہتے ہیں کہ اگر یہ بات نہ اٹھائی جائے تو ہمارے لئے آئندہ بہت سی مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں اور ملک کے امن کو بھی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ورنہ حکومت نے جو کچھ ہمیں کہا ہے وہ ان گالیوں کے مقابلہ میں کیا حیثیت رکھتا ہے جو روزانہ ہم مخالفین کے منہ سے سنتے رہتے ہیں۔حکومت کی یہی غلطی ہے کہ اس نے ایک دوسرے کا فعل میری طرف منسوب کر دیا۔مگر یہ کوئی نئی بات نہیں ہم روزانہ غیر احمدیوں، سکھوں اور ہندوؤں سے سنتے ہیں کہ اگر کوئی احمدی نماز نہیں پڑھتا تو وہ کہتے ہیں یہ نبی کی جماعت ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں حالانکہ نمازیں نہیں پڑھتے۔وہ ایک شخص کے فعل کو ساری جماعت کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔اسی طرح کوئی شخص درشت کلامی سے پیش آتا ہے تو کہتے ہیں یہ نبی کی جماعت ہونے کا دعوی کرتے ہیں حالانکہ ان کی زبانیں صاف نہیں۔وہ فوراً ایک شخص کے فعل کو تمام جماعت کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔اس طرح ذرا کسی احمدی کے منہ سے کوئی ایسی بات نکل جائے جو غلط ہو تو چاہے نادانستہ طور پر ہی اس سے به فعل سرزد ہوا ہو تب بھی ہم دیکھتے ہیں کہ دوسرے لوگ جھٹ کہہ دیتے ہیں کہ یہ بھی جھوٹے ہیں ان کا پیر بھی جھوٹا تھا۔پس اس معاملہ میں گورنمنٹ انگریزی کا فعل کوئی نیا فعل نہیں۔زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایک ناظر کا فعل اس نے میری طرف منسوب کردیا مگر ان گالیوں کے مقابلہ میں جو ہم روزانہ سنتے ہیں، اس چیز کی کچھ بھی ہستی نہیں۔اس سے ہزاروں گنا زیادہ گالیاں سن کر اور اس سے لاکھوں گنا زیادہ سخت الفاظ سن کر ہم انہیں برداشت کرتے ہیں پھر اس کی کیا وجہ ہے کہ ہم گورنمنٹ کی اس غلطی کو برداشت نہیں کر سکتے؟ اس کی وجہ وہی ہے جسے پہلے بھی میں نے بیان کیا کہ گورنمنٹ کا اس طرح نوٹس دینا جس میں سول ڈس او بیڈینس (CIVIL DIS OBEDIANCE) کا الزام ہم پر لگایا گیا ہو ، کسی صورت میں بھی جائز نہیں۔ہماری جماعت وہ جماعت ہے جسے شروع سے ہی لوگ یہ کہتے چلے آئے کہ یہ خوشامدی اور گورنمنٹ کی پھو ہے، بعض لوگ ہم پر الزام لگاتے ہیں کہ ہم گورنمنٹ کے جاسوس ہیں،