خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 315 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 315

خطبات محمود ۳۱۵ سال ۱۹۳۴ء پنجابی محاورہ کے مطابق ہمیں جھولی چک اور نئے ”زمینداری" محاورہ کے مطابق ہمیں ٹوڈی کہا جاتا ہے۔پھر کونسا زمانہ ہم پر ایسا نہیں گزرا جب ہم پر یہ الزام بھی نہ لگایا گیا ہو کہ ہم گورنمنٹ کے باغی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جس وقت دعوی کیا، اسی وقت سے مکفر مولویوں نے اور خصوصیت سے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے گورنمنٹ کو یہ کہنا شروع کیا کہ ان لوگوں کی تعریفوں پر نہ جائیے، یہ حکومت کے خیر خواہ نہیں بلکہ باغی ہیں اور آج نہیں تو کل تلوار لے کر حکومت کے خلاف کھڑے ہو جائیں گے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی کے ابتدائی ایام سے ہی ہمیں لوگ یہ کہتے چلے آئے ہیں کہ ہم گورنمنٹ کے باغی ہیں اور اب قادیان اور امرتسر میں احراریوں نے جو تقریریں کی ہیں، ان میں بھی انہوں نے یہی بیان کیا ہے کہ ان لوگوں کی چکنی چپڑی باتوں پر نہ جائیے یہ دراصل گورنمنٹ کے مخالف ہیں۔پھر اخبار "زمیندار" کے فائل اٹھا کر دیکھ لو ان میں بھی حکومت کے متعلق یہی لکھا ہوتا ہے کہ یہ تمہارے دوست کہاں کے ہیں، یہ تو درپردہ مخالف ہیں۔پس گورنمنٹ نے اگر آج ہمیں یہ کہہ دیا کہ ہم باغی ہیں تو اس نے کونسا ہمیں نیا خطاب دے دیا جس پر ہمیں غصہ آئے۔دراصل ان اعتراضات کی وجہ سے ہمیں رنج نہیں بلکہ ہمیں رنج دو وجہ سے ہے۔ایک وجہ تو یہ ہے کہ ہم نے گورنمنٹ کے ساتھ دوستی کی ظاہر و باطن دوستی کی مگر گورنمنٹ نے اس کے صلہ میں بغیر تحقیق کئے ہم پر خطرناک الزام لگادیا۔پس ہمارے غصہ کی مثال بالکل وہی ہے جو منصور کی تھی۔کہا جاتا ہے کہ جب انہیں دار پر لٹکایا گیا تو ان پر لوگوں نے پتھر مارنے شروع کر دیئے مگر وہ ہنستے جاتے اور کسی کا پتھر لگنے پر کوئی۔رنج محسوس نہ کرتے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ انہیں جس قدر تکلیف پہنچ رہی ہے، خدا تعالیٰ کی خاطر ہے۔اس موقع پر شبلی علیہ الرحمۃ نے جو ایک بہت بڑے بزرگ گزرے ہیں، اپنی محبت جتلانے کے لئے ایک گلاب کا پھول اٹھایا اور منصور کی طرف پھینکا اس پھول کا لگتا تھا کہ منصور رو پڑے۔شبلی نے پوچھا پھروں سے تو آپ نے کوئی تکلیف محسوس نہ کی مگر ایک پھول کے لگنے پر آپ رو پڑے۔اس کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے کہا میں ان پتھروں سے خوش تھا کیونکہ یہ پتھر پھینکنے والے نابینا تھے۔مگر اے شبلی ! تم تو میرے دوست تھے اور تم مجھے خوب جانتے تھے تمہارے پھول نے مجھے ان پتھروں سے زیادہ تکلیف دی ہے اے۔اسی۔طرح ہم نے ابتدائے سلسلہ سے گورنمنٹ کی وفاداری کی، ہم ہمیشہ یہ فخر کرتے رہے کہ ہم