خطبات محمود (جلد 15) — Page 177
سال ۱۹۳۴ خطبات محمود 166 نوجوان مبلغین کو توجہ دلاؤں کہ وہ مرحوم سے سبق سیکھیں۔ان میں بعض کے متعلق شکایتیں آتی ہیں کہ وہ کام چور ہیں۔انہیں چاہیے کہ اپنے بزرگوں اور استادوں سے سبق سیکھیں۔حافظ روشن علی صاحب مرحوم کو میں نے دیکھا ہے کہ وہ دین کیلئے اس طرح کام کرتے تھے جیسے گھڑی چلتی ہے اور کبھی تکان محسوس نہیں کرتے تھے۔رات ہو یا دن کبھی کام سے جی نہ چراتے۔اسی طرح پرانے مبلغوں میں سے مولوی غلام رسول صاحب راجیکی ہیں۔ان کی صحت خراب رہتی ہے اور وہ اعصابی کمزوری میں مبتلاء ہیں۔یہ ایسا مرض ہے کہ عام لوگ اس میں مبتلاء ہو کر کام ہی نہیں کرسکتے مگر وہ لگے رہتے ہیں حالانکہ کبھی سخت دورہ ہو جاتا ہے۔بعض اوقات لقوہ وغیرہ بھی اس مرض کے نتیجہ میں ہو جاتا ہے مگر وہ قدرے افاقہ ہونے پر پھر کام میں لگ جاتے ہیں اسی طرح مرحوم کا نمونہ بھی بہت اچھا تھا۔ایک اور صاحب ہماری جماعت میں مولوی غلام حسن صاحب لاہور کے تھے۔انہیں کتابوں سے اتنا عشق تھا کہ کتابوں سے بڑھ کر ان کے نزدیک کسی چیز کی کوئی قیمت ہی نہ تھی۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول بہت کتابیں پڑھتے تھے مگر وہ فرماتے کتابیں پڑھنے کے لحاظ سے مولوی غلام حسن صاحب مجھ سے بھی بڑھے ہوئے ہیں اور اس لحاظ سے شاید ہندوستان بھر میں اس صدی میں ان کا کوئی ہمسر تھا۔وہ بہت غریب تھے۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول فرمایا کرتے تھے۔ایک دفعہ ان کی غربت کو دیکھ کر میں نے خیال کیا کہ ان کی کوئی خواہش پوری کر کے ثواب حاصل کروں۔یہ سوچ کر میں نے پوچھا مولوی صاحب آپ اپنی کوئی خواہش بتائیے۔تو کہنے لگے میری خواہش تو یہی ہے کہ چاروں طرف کتابوں کی دیواریں ہوں اور مجھے اندر ڈال دیا جائے۔رات کو کوئی چراغ جلا کر پکڑا دیا کرے روٹی کی بھی مجھے ضرورت نہیں میں وہاں بیٹھا کتابیں پڑھتا رہوں اور جب وہ ختم ہو جائیں تو نکل آؤں۔گویا وہ اُدھر گئے ہی نہیں جو حضرت خلیفہ اول کا منشاء تھا۔وہ ایسے غریب آدمی تھے کہ سات سات وقت کے خاتے آتے مگر پھر بھی منہ سے کبھی کسی کو اپنی حالت نہ بتاتے۔ہمیشہ ہشاش بشاش نظر آتے اور پھر اپنے انہماک میں ہی کھانے بیٹھتے تو سات سات آٹھ آٹھ آدمی کا کھانا کھا جاتے۔میں چھوٹا تھا کہ بخار سے بیمار ہوا اور ڈاکٹر نے کہا شملہ بھیج دیا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے شملہ بھیج دیا۔میں وہاں پہنچا مجھے شخص تو مولوی صاحب وہاں تھے۔میرا ذکر سن کر ملنے آئے اور بتایا کہ ایک غیر احمدی کلرک مجھ عربی پڑھا کرتا تھا۔اس کا دفتر گرمیوں میں شملہ آیا تو میں نے اس سے پوچھا کہ اب تو سبق رہ