خطبات محمود (جلد 15) — Page 178
محمود 12A, سال ۱۹۳۴ء جائے گا۔اس نے کہا ہاں مگر کیا ہو سکتا ہے۔مولوی صاحب کہنے لگے اگر میں شملہ آجاؤں تو پڑھا کرو گے؟ اس نے کہا ہاں ضرور پڑھوں گا۔چنانچہ آپ اپنے خرچ پر شملہ آگئے محض اس خیال سے کہ انگریزی خوانوں میں عربی کا شوق پیدا ہو۔اس وقت اُن کی عمر ستر برس کے قریب تھی مگر ادب اور عشق کا یہ حال تھا کہ میں جہاں جاتا برابر ساتھ جاتے۔سیر کے وقت بھی ساتھ رہتے۔میری عمر اُس وقت سترہ سال کے قریب تھی اور دوسرے دوست بھی جو سیر وغیرہ میں شریک ہوتے عام طور پر نوجوان تھے۔سیر کے وقت دل چاہتا کہ آگے جائیں ، مگر اس خیال سے کہ مولوی صاحب بوڑھے ہیں واپس آجاتے۔میں نے دوستوں سے کہا کہ سیر کو چپکے سے چلا کریں جب مولوی صاحب باہر ہوں۔چنانچہ اگلے روز جب مولوی صاحب باہر تھے ، ہم سے دوسرے دروازے سے نکل گئے۔مگر تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ دیکھا سامنے پہاڑ پر سے مولوی صاحب ڈنڈا ہاتھ میں پکڑے اور بڑے بڑے ڈگ بھرتے ہوئے آرہے ہیں۔آتے ہی کہنے لگے واہ جی آپ لوگ مجھے چھوڑ آئے۔ہم نے کہا ہم تو آپ کی تکلیف کے خیال سے چھوڑ آئے تھے۔کہنے لگے بھلا یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صاحبزادے آئیں اور میں ہم رکاب نہ رہوں۔تو یہ لوگ دن رات کام کرنے والے تھے اور حد درجہ کا تقویٰ اور اخلاص رکھتے تھے۔ہمارے نوجوان مبلغوں کو بھی چاہیئے کہ ان لوگوں کی زندگیوں کو اپنے لئے خضر راہ بنائیں۔اور علم حاصل کرنے اور تبلیغ کرنے میں ان کے نمونوں سے سبق سیکھیں۔ان کے متعلق بعض اوقات شکایت آتی ہے کہ کام کے موقع پر تکان وغیرہ کا عذر کرتے ہیں حالانکہ جب دشمن حملہ آور ہو، اُس وقت کون کہا کرتا ہے کہ میں تھکا ہوا ہوں۔انہیں چاہیے کہ جہاں تک ہو سکے محنت اور اخلاص سے کام کریں اور پھر کتابی علم پر بنیاد نہ رکھیں بلکہ تقویٰ اور تعلق باللہ پر بنیاد ہونی چاہیے۔اصل علم وہی ہے جو تقویٰ سے حاصل ہو۔میں نے لاہور میں جو ابھی لیکچر دیا، اس کے بعد کئی ہندو مسلمان ملنے آئے۔وہ کہتے کہ ہمارے پاس اتنا وقت نہیں کہ اس قسم کے مضمون کی تیاری کر سکیں حالانکہ میں نے اسے صرف چند گھنٹوں میں تیار کیا تھا۔مگر وہ سمجھتے تھے اس کیلئے مہینوں بلکہ سالوں کی ضرورت ہے۔تو اللہ تعالی جو بات سمجھائے، وہ جلدی سمجھ میں آجاتی ہے۔میں حافظ قرآن نہیں ہوں اور طبعاً حوالہ والی کوئی بات مجھے یاد نہیں رہتی۔قرآن شریف کے ہزارہا مضامین میرے ذہن میں ہیں لیکن آیات سوائے سورۃ فاتحہ کے میں شاید نہ بتا سکوں کہ کس سورۃ کی ہیں۔خواہ وہ ایسی