خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 176

خطبات محمود 164 سال ۱۹۳۴ء وہ انہیں دور کرسکتے ہیں۔مگر میں دیکھتا ہوں میں سال سے مصافحہ کے وقت یہ غلطی ہو رہی ہے لیکن ہر بار وہی نقص نظر آتا ہے اور جو غلطی ایک بار ہو جائے وہ دوسری بار بھی ضرور ہوگی۔یہ باتیں بتاتی ہیں کہ ہمارے دوستوں میں غور و فکر کی عادت نہیں۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کیلئے ضروری ہے کہ ہر کام سے پہلے اس کے متعلق غور و فکر کرے اور جو غلطی معلوم ہو اسے پھر نہ ہونے دے۔ایک ایک آدمی بھی ہر روز اس بات کو سمجھنے لگتا تو ہیں سال میں کئی ہزار آدمی سیکھ سکتے تھے اور پھر وہ لاکھوں کو ٹریننگ دے سکتے تھے۔اس کے بعد میں دوستوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ مولوی جلال الدین صاحب جو کھریپر ضلع فیروز پور کے رہنے والے تھے اور ملکانوں میں تبلیغ کیلئے مین پوری رہتے تھے، فوت ہو گئے ہیں۔وہ پرانے اور نہایت مخلص احمدی تھے۔میں دیر سے انہیں جانتا ہوں۔یہ تو میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ حضرت سیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے زمانہ میں آئے یا بعد میں لیکن حضرت خلیفہ اول کے زمانہ سے میرے ان سے تعلقات تھے۔میرا ستائیس سالہ تجربہ ہے کہ میں نے ان کے چہرہ پر کبھی اصامت کے آثار نہیں دیکھے، ہمیشہ خوش نظر آتے۔کئی دفعہ وہ اپنے معاملات پیش کرتے۔اور انہیں ایسا مشورہ دینا پڑتا جو ان کے خاندان کے خلاف ہوتا مگر وہ ہمیشہ خندہ پیشانی سے سنتے اور ہنتے ہوئے کہتے کہ اچھا یہ بات ہے اور کبھی کسی بات پر بُرا نہ مناتے۔انہیں تبلیغ کا جنون تھا۔مین پوری میں جو احمدی آتے بلکہ بعض اوقات وہاں سے غیراحمدی بھی آتے، وہ بتاتے کہ ان کے تقویٰ و طہارت کا اس علاقہ میں گہرا اثر ہے۔جس طرح ان کی وفات ہوئی وہ بھی اپنے اندر شہادت کا رنگ رکھتی ہے۔سخت گرمی کے دن ہیں وہ ایک جگہ تبلیغ کیلئے گئے اور یہ گوارا نہ کیا کہ تمام دن وہیں گزاریں۔لوگوں نے بھی کہا کہ گرمی بہت ہے، یہی ٹھہر جائیں۔لیکن انہوں نے جواب دیا کہ نہیں دوسری جگہ جاکر بھی تبلیغ کرنا ضروری ہے۔چنانچہ چلے گئے اور رستہ میں سن سٹروک جسے ضَرْبَةُ الشَّمْسِ کہتے ہیں ہو گیا۔اور بیہوشی میں کسی گردوارے کے سامنے جاگرے اور فوت ہو گئے۔لوگوں نے پولیس والوں کو بلالیا۔وہ بھی آپ کو پہچانتے تھے تو یہ موت بھی شہادت کی موت ہے کوئی وجہ نہیں کہ اگر دین کے معاملہ میں کوئی دشمن ماردے تو شہادت ہو لیکن اگر کوئی شخص خود دیانتداری کے ساتھ خدمت دین کرتا ہوا مر جائے تو وہ شہید نہ ہو۔نماز کے بعد میں ان کا جنازہ پڑھاؤں گا دوست شریک ہوں۔ان کے جنازہ کے متعلق کہنے کے علاوہ میں یہ بات کہنے کی ضرورت سمجھتا ہوں کہ اپنے