خطبات محمود (جلد 15) — Page 175
خطبات محمود ۱۷۵ سال ۱۹۳۴ء پر ایسی غلطیاں ہوتی ہیں جن کی اصلاح کی طرف منتظم توجہ نہیں کرتے۔رستہ ایسا تنگ بناتے ہیں کہ دھکے پر دھکے پڑتے ہیں۔مثلاً کل ہی جب میں آیا تو ہزار کے قریب لوگ ہوں گے۔اور یہاں کون سا ایسا خطرہ ہے کہ کوئی شخص بم یا گولی چلا دے۔مگر پھر بھی انتظامی لحاظ سے ایسی گھبراہٹ ٹپکتی تھی جو مضحکہ خیز تھی۔میں نے دیکھا کہ انتظام کرنے والے لوگوں کے ساتھ درشتی کے ساتھ پیش آتے تھے جس طرح مجسٹریٹ مجرم سے پیش آتا ہے۔وہ سینہ سے سینہ ملا کر کھڑے تھے ، رستہ کسی کو دیتے نہیں تھے جس کا نتیجہ یہ تھا کہ دھکے پڑتے تھے اور مجھے بھی ساتھ ہی تکلیف ہوتی تھی۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ اتنی گھبراہٹ کی کیا ضرورت ہے۔گل اتنے آدمی تو نہیں تھے جتنے آج ہیں۔پھر ہماری جماعت کا بیشتر حصہ ایسا ہے جو قانون کی پابندی کا عادی ہے۔اگر انہیں سمجھا دیا جائے تو وہ بد نظمی پیدا نہیں کرتے لیکن انتظام بھی تو ایسا ہونا چاہیے کہ خواہ مخواہ تکلیف نہ ہو۔جب کسی سے مصافحہ کا انتظام کرنا ہو تو کم سے کم تین گز چوڑی گلی ہونی چاہیئے۔تنگ رستہ سے نظر آنا بھی محال ہوتا ہے۔مثلاً گل میں نے دیکھا کہ بعض تنگ گلی میں سے گذرتے ہوئے مجھ سے بھی آگے بڑھ جاتے اور پھر یہی منتظم ان پر ہنستے حالانکہ اس کی وجہ جگہ کی تنگی ہے۔جگہ کی تنگی کی وجہ سے مصافحہ کرنے والے کو دوگز آگے جاکر ہوش آتی ہے۔اگر رستہ چوڑا ہو تو دُور سے ہی بآسانی نظر آسکتا ہے۔پھر مجبور کیا جاتا ہے کہ ایک ایک کر کے گزرو۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ابتدائی۔حصہ میں آدھا یا ۱/۴ منٹ دوسرے آدمی کے آنے تک ضائع ہو جاتا ہے اور ہر آدمی کے گزرنے کے بعد بھی تین چار سیکنڈ ضرور ضائع ہوتے ہیں۔اگر تین تین چار چار جائیں تو کوئی حرج نہیں۔ان میں سے کون سے ایسے لوگ آجائیں گے کہ جو پہچانے نہ جاسکیں۔تو ہمارے ہر انتظام میں معقولیت ہونی چاہیئے۔اور جو گڑ بڑ ایک بار ہو دوسری بار ہرگز نہ ہونی چاہیئے۔رسول کریم ا نے فرمایا ہے کہ مومن ایک سوراخ سے دو دفعہ نہیں کاٹا جاتا ہے۔اس کا یہی مطلب ہے کہ مسلمان جو غلطی ایک دفعہ کرتا ہے دوسری دفعہ اس کا ارتکاب نہیں کرتا۔لوگوں نے اس کے یہ معنی سمجھ لئے ہیں کہ دوسری بار دھوکا نہیں کھا سکتا۔مگر یہاں عام لفظ ہے کہ ایک سوراخ سے دو دفعہ نہیں کاٹا جاسکتا۔چاہے وہ علم کے متعلق ہو یا عرفان کے متعلق، دینی ہو یا دنیوی جب ایک دفعہ اس میں غلطی کرے تو دوسری دفعہ ضرور سنبھل جاتا ہے۔پس اگر منتظم غور کریں تو اپنے انتظام کے نقائص انہیں معلوم ہو سکتے ہیں اور آتے