خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 174 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 174

خطبات محمود ۱۷۴ سال ۱۹۳۴ء علیحدہ مل کر دریافت کیا کرتے تھے لیکن میں تسلیم کرتا ہوں کہ میری نصیحت کے بعد یہ بات اب کم ہو گئی ہے۔اور سوالات عام طور پر مسجد میں پوچھ لئے جاتے ہیں گو اتنا نہیں جتنا علیحدگی میں پوچھتے تھے۔پہلے تو یہ عام عادت تھی کہ کہتے ہم نے کوئی مسئلہ پوچھنا ہے علیحدہ وقت دیا جائے۔حالانکہ میں نے بارہا کہا ہے کہ مسئلہ مجلس میں پوچھنا چاہیے تاکہ دوسروں کو بھی فائدہ ہو۔مگر خیر یہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ گزشتہ نصیحت کے بعد اب اس میں کمی ہو گئی ہے لیکن آج کل مصافحوں اور رقعوں میں پھر زیادتی شروع ہو گئی ہے۔مصافحہ کرنے والوں میں جنہیں میں پہچانتا ہوں اتنی فیصدی وہ لوگ ہوتے ہیں جو پانچوں نمازیں مسجد میں پڑھتے ہیں اور صرف ہیں فیصدی ایسے ہوتے ہیں جو باہر سے بطور مہمان آتے ہیں یا محلوں میں رہتے ہیں ایسے لوگوں کیلئے مصافحہ کرنا جائز بلکہ ضروری ہے تا شناخت رہے۔مجھے ان کے اخلاص کا علم ہو اور معلوم ہو سکے کہ دین کی طرف ان کی کتنی توجہ ہے۔مگر جن لوگوں کو پانچ، چار، تین یا بدرجہ اقل دو نمازیں مسجد مبارک میں پڑھنے کا موقع ملتا ہے، ان کیلئے ضروری نہیں کہ ہر بار مصافحہ کریں بلکہ بعض حالات میں ان کا مصافحہ تکلیف وہ ہوتا ہے اس لئے آج پھر دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ عقل و فکر اور شعور صرف ہمارا ہی حصہ ہے۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ چیزیں مومن کا ہی حصہ ہوتی ہیں۔جو چیز دوسروں کو بہت بڑی محنت کوشش، جدوجهد ، تنگ و دو اور دوڑ دھوپ کے بعد حاصل ہوتی ہے وہ مومن کو بطور موہبتِ الہی حاصل ہوتی ہے۔پس ہر کام جو کرنے لگو پہلے سوچو کہ اس کا نتیجہ کیا ہو گا پھر معلوم ہو جائے گا کہ کسی چیز میں کیا خوبیاں ہیں اور کیا بُرائیاں۔اسلام نے جو قانون بتایا ہے وہ یہی ہے کہ جس کام کی بُرائیاں نیکیوں کے مقابلہ میں زیادہ ہوں، وہ نہ کرو۔اسی اصل کے ماتحت دیکھ لینا چاہیے کہ جو کام کرنے لگے ہو، اس کا فائدہ کیا ہے۔اور اگر اس طرح غور کر لیا جائے تو میں سمجھتا ہوں ان باتوں میں سے ایک بھی ایسی نہیں جو کی جائے۔روزانہ بار بار مصافحہ کرنا، بچوں کے ہاتھ رقعے بھیجنا بیعت کے وقت پیٹھ پر یا پاؤں پر ہاتھ رکھنا یہ سب باتیں ایسی ہیں کہ غور کرنے سے انسان خود سمجھ سکتا ہے کہ یہ کرنے کی نہیں اور اس طرح ان غلطیوں سے اجتناب ہو سکتا ہے۔میں نے پہلے بھی توجہ دلائی ہے اور اب پھر نصیحت کرتا ہوں کہ ان باتوں میں وقت ضائع نہ کیا کریں۔مشایعت یا استقبال صحابہ سے ثابت ہے۔یہ چیزیں محبت اور بعض حالات میں قومی وقار کو بڑھانے والی ہیں۔لیکن جب کوئی مبلغ آتا جاتا یا میں باہر جاتا آتا ہوں تو ہمیشہ ایسے موقع