خطبات محمود (جلد 15) — Page 164
خطبات محمود 145 سال ۱۹۳۴ء وہ نہیں کر سکتا بلکہ جو بھی حکم دیا جائے اسے بجالاتا ہے۔یہی امر ہمیں مدنظر رکھنا چاہیے اور ہماری ہر حرکت و سکون اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت ہونی چاہیئے۔ورنہ اگر یہ حقیقت ہمارے اعمال میں موجود نہیں اور نہ عبودیت ہمارے چہرہ پر ظاہر ہوتی ہے تو یقیناً ہمارا بے بنیاد دعویٰ ہمیں پاگلوں میں شمار کرے گا لیکن جب یہ حالت نہ ہو اور دعوے صرف زبان تک محدود نہ ہوں بلکہ عملی ثبوت اس کے ساتھ موجود ہوں تو انسان کی حالت بالکل بدل جاتی ہے اور وہ حقیقی عبودیت کے اظہار کیلئے بے اختیار ہو جاتا ہے۔صحابہ " کا ہی ایک واقعہ تاریخوں میں مذکور ہے جس سے ان کی عبودیت کا ثبوت ملتا ہے۔غزوہ حنین کے موقع پر کچھ ایسے لوگ مسلمانوں میں شامل ہو گئے تھے جو در حقیقت مسلمان نہیں تھے یا ابھی نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے تھے۔فتح مکہ کے بعد جبکہ ثقیف اور ہوازن وغیرہ سے طائف کے قریب مقابلہ ہوا تو اس وقت مکہ کے ان لوگوں نے جو نئے نئے مسلمان ہوئے تھے ، خواہش ظاہر کی کہ انہیں بھی جنگ کرنے والوں میں شامل کیا جائے بعض غیر مسلم بھی مسلمانوں کے زیر اثر ان کے ساتھ شریک ہو گئے۔چونکہ نئے مسلمان اخلاص نہیں رکھتے تھے جو خدا تعالی کی تائید اور اس کی نصرت کو جذب کر سکتا ہے اور کافر تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مؤید ہونے کے مقام سے بہت دور ہوتا ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ باوجود اس کے کہ وہ یہ کہتے ہوئے گئے کہ آج ہم میدان جنگ میں اپنی بہادری دکھائیں گے اور بتلائیں گے کہ جرات کسے کہتے ہیں۔ان بہادروں نے یہ کیا کہ جب ثقیف اور ہوازن کے تیراندازوں نے مسلمانوں کے لشکر پر تیروں کی بوچھاڑ ڈالی تو ان کے گھوڑے اور اونٹ وغیرہ رکنے لگے اور ڈر کر پیچھے کی طرف بھاگے۔لازمی طور پر اس کا یہ نتیجہ تھا کہ مسلمانوں کی صفیں ٹوٹ جائیں چنانچہ تمام صفیں ٹوٹ گئیں۔صحابہ کے اونٹ اور گھوڑے بھی ڈر کے مارے جنگ سے بھاگ نکلے اور میدان خالی ہونا شروع ہو گیا یہاں تک کہ صرف بارہ صحابہ رسول کریم اللہ کے پاس رہ گئے۔اُس وقت دشمن کی تعداد چار ہزار کے قریب تھی اور وہ برابر تیراندازی میں مصروف تھا۔صحابہ نے جب یہ حالت دیکھی تو انہوں نے رسول کریم سے عرض کیا کہ یا رَسُولَ اللہ ! اب ٹھرنے کا موقع نہیں۔اور بعضوں نے تو رسول کریم کے گھوڑے کی باگ پکڑلی اور عرض کیا اب حضور کو آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔مگر رسول کریم ﷺ نے فرمایا مجھے چھوڑ دو۔پھر آپ نے گھوڑے کو ایڑ لگاتے ہوئے میدان