خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 165

خطبات محمود دشمن کی طرف بڑھایا۔اور فرمایا ۲۶۵۰ أنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبُ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبُ له سال ۱۹۳۴ء میں خدا کا سچا نبی ہوں جس میں جھوٹ نہیں۔مگر چونکہ یہ خیال پیدا ہو سکتا تھا کہ چار ہزار کی تعداد میں دشمن سامنے ہے اور وہ برابر تیراندازی میں مصروف ہے، صرف بارہ آدمی رسول کریم کے ارد گرد رہ جاتے ہیں اور وہ آپ سے عرض کرتے ہیں کہ اب آگے بڑھتا مناسب نہیں مگر باوجود اس کے آپ بڑھتے چلے جارہے ہیں تو ممکن ہے آپ میں انسانیت سے بالا کوئی بات ہو اس لئے فرمایا - اَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبُ - میرے اندر کوئی خدائی طاقتیں نہیں میں تو صرف عبد المطلب کا بیٹا ہوں۔اُس وقت جب صرف باره آدمی رسول کریم کے پاس رہ گئے آپ نے حضرت عباس کو بلایا۔ان کی آواز بہت بلند تھی۔جب وہ آگئے تو آپ نے فرمایا۔اے عباس! بلند آواز سے پکارو کہ اے انصار! خدا کا رسول تمہیں بلاتا ہے۔یہ وقت تھا جس میں صحابہ کو عبودیت کے اظہار کا موقع ملا کیونکہ لشکر منتشر ہو چکا تھا اور افراد پراگندہ ہو چکے تھے، اونٹ اور گھوڑے اور دوسرے جانور بھاگے چلے جارہے تھے۔اور اس قسم کا ان پر خوف طاری تھا کہ وہ واپس لوٹنے کیلئے تیار نہ تھے۔ایسے نازک موقع پر جبکہ منتشر شدہ لشکر کا دوبارہ جمع ہونا بظاہر ناممکن اور محال نظر آتا تھا۔جب حضرت عباس نے آواز دی کہ اے انصار! خدا کا رسول تمہیں بلاتا ہے تو خدا کے رسول کی آواز سنتے ہی صحابہ کھڑے ہو گئے۔ایک صحابی کی روایت ہے کہ اُس وقت لشکر میں اس قسم کا تہلکہ مچا ہوا تھا کہ ہم اپنے گھوڑوں کو لوٹاتے مگر وہ پیچھے نہ کوئے۔ہم باگیں کھینچتے اور پورے زور سے کھینچتے یہاں تک کہ جانور کا سر اُن کی دُم سے جاملتا۔مگر باوجود اس کے جب لگام ذرا ڈھیلی ہوتی، وہ آگے کو بھاگ پڑتے۔اس صحابی کا بیان ہے۔جب ہمیں یہ آواز سنائی دی کہ اے انصار! خدا کا رسول تمہیں بلاتا ہے تو ہمیں یوں معلوم ہوا کہ ہم دنیا میں نہیں بلکہ مرچکے ہیں اور میدانِ حشر میں کھڑے ہیں اور صور اسرافیل پھونکا جارہا ہے اور کہا جارہا ہے کہ اے مردو! ہمارے پاس آجاؤ۔یہ آواز سنتے ہی ہم میں ایک نیا جذبہ اور نیا رنگ پیدا ہو گیا۔جو لوگ اپنے اونٹوں اور گھوڑں کو واپس لوٹا سکے، انہوں نے واپس لوٹا کر اور جنہوں نے یہ دیکھا کہ ان کی سواریاں مڑنے کیلئے تیار نہیں تو سواریوں کی گردنیں اُڑا کر لبیک کہتے ہوئے اس آواز پر جمع ہو گئے اور چند منٹ کے اندر اندر ہی میدانِ جنگ صحابہ سے بھر گیا ہے