خطبات محمود (جلد 15) — Page 163
خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء یہی امر بیان فرمایا ہے کہ انسانی پیدائش کی غرض اس کا عبد بننا ہے اور عبودیت کا اظہار صرف قول سے نہیں بلکہ فعل سے بھی ہوا کرتا ہے۔پس اگر ہم خدا تعالیٰ کے عبد ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہماری عبودیت کا اظہار دُنیا پر نہ ہو اور لوگ یہ محسوس نہ کریں کہ ہمارا کسی بالا ہستی کے ساتھ تعلق ہے۔اس لحاظ سے ہمیں غور کرنا چاہیئے کہ ہمیں دیکھنے اور ہماری حرکات و سکنات کا مطالعہ کرنے والے لوگ ہمارے متعلق کیا رائے رکھتے ہیں۔کیا وہ ہمیں دیکھ کر یہ اقرار کرتے ہیں کہ ان لوگوں کا کسی بالا ہستی سے تعلق ہے جس کی وجہ سے ان کی زندگی کی کایا پلٹ گئی یا نہیں۔اگر ہمارے اعمال کو قریب سے دیکھنے والے اپنے دلوں میں یہ محسوس کرتے ہیں اور وہ ہماری چال ڈھال اُٹھنے بیٹھنے اور کھانے پینے پر نظر رکھ کر اس حقیقت کا اعتراف کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ یہ اپنا ہاتھ کسی اور کے ہاتھ میں دے چکے ہیں، یہ زمینی نہیں بلکہ آسمانی نفوس بن گئے ہیں تو ہم خوش ہو سکتے ہیں اور کہہ سکتے ہیں کہ واقعہ میں ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا لیکن اگر ہمارے اعمال لوگوں کو بغیر ایک لفظ سننے کے یہ یقین نہیں دلاتے کہ ہم کسی اور ہستی کے غلام ہیں جس کے ہر حکم کے نیچے ہماری گردنیں مجھکی ہوئی ہیں تو ہمارے منہ کے دعوے ہمیں کبھی نجات نہیں دلا سکتے۔یاد رکھو منہ کا دعویٰ جس کے ساتھ عمل نہ ہو اگر کچھ ثابت کر سکتا ہے تو یہ کہ ایسا انسان پاگل ہے کیونکہ پاگل بھی بڑے بڑے دعوے کرتا ہے مگر اس میں حقیقت نہیں ہوتی۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ میں پاگل خانہ دیکھنے گیا۔وہاں مجھے کئی قسم کے پاگل دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ان میں سے ایک کو میں نے دیکھا کہ اُس نے اپنے ارد گرد ٹھیکریوں کا ڈھیر لگایا ہوا تھا اور سمجھ رہا تھا کہ اس کے پاس بہت بڑا خزانہ ہے اور وہ دُنیا کا بادشاہ ہے۔اس کے مقابلہ میں ہم ایک بادشاہ کو دیکھتے ہیں وہ بھی سمجھتا ہے کہ اس کے پاس خزانہ ہے اور وہ دنیا کا بادشاہ مگر دونوں میں کتنا عظیم الشان فرق ہے۔پاگل بھی کہتا ہے کہ میں بادشاہ ہوں اور بادشاہ بھی کہتا ہے کہ میں بادشاہ ہوں۔ان دونوں میں اگر کچھ فرق ہے تو یہ کہ ایک خالی منہ سے دعویٰ کرتا ہے۔اور دوسرا صرف دعوئی ہی نہیں، اس کا ثبوت بھی پیش کرتا ہے۔غرض جب پاگل کے معنے ہی یہ ہوتے ہیں کہ وہ ایسا دعویٰ کرتا ہے جس میں حقیقت نہیں ہوتی تو اسی طرح اگر واقعہ میں ہم کہتے ہیں کہ ہم خدا تعالیٰ کے بندے ہیں مگر اس کی بندگی کا ثبوت پیش نہیں کرتے تو ہمارا یہ دعوی بھی ہمیں پاگل نہیں تو اور کیا ثابت کرے گا۔غلام کبھی آقا کے حکم کا انکار ہے۔