خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 301

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء فائدہ اٹھا کر اظہارِ خیال کردیا جائے۔اس کے یہ معنے ہرگز نہیں ہوتے کہ ہم اس واقعہ کو اسی | طرح سمجھتے ہیں جس طرح وہ پیش کیا جاتا ہے۔بلکہ یہ فرض کر کے کہ اگر ایسا ہو یا یہ کہ ممکن ہے ایسا ہو سکے یا انسانی کمزوریاں جماعت کے کسی فرد کو اس کی طرف مائل کردیں۔اس لئے قبل از وقت جماعت کو بیدار کرنے کیلئے اظہارِ خیال کردیا جاتا ہے۔یہ اظہارِ خیال یہ تسلیم کرکے نہیں ہوتا کہ یہ واقعہ صحیح ہے۔بلکہ اس لئے کہ جماعت کے کمزور لوگوں سے ایسے واقعات صادر ہو سکتے ہیں۔اور یہ واقعہ ایک تحریک ہے جس سے اللہ تعالی چاہتا ہے کہ جماعت کو بہ بیدار کر دیا جائے۔پس اس تمہید کے ساتھ کمزور طبائع کے شکوک کو دور کرتے ہوئے میں۔یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کہا جاتا ہے۔احرار کے ساتھ تعلق رکھنے والے جو لوگ یہاں ہیں۔ان میں سے کسی کو کسی احمدی نے مارا ہے۔میں نے اس کے متعلق واقعات معلوم نہیں کئے اور نہ گواہیاں لی ہیں۔اور نہ ان حالات میں کہ ان لوگوں نے ہماری قضاء سے فائدہ نہیں اُٹھانا مجھے گواہیاں لینے کی ضرورت ہے۔پس نہ تو ماضی میرے علم کا ذریعہ ہے اور نہ مستقبل میں اس واقعہ کے متعلق میرے علم کا کوئی امکان ہے۔مگر جماعت کی اصلاح اور اس کے اخلاق اور تربیت کی صحیح راہنمائی کیلئے میں سمجھتا ہوں کہ جماعت کو اپنے خیالات سے آگاہ کردوں۔میں نے متواتر یہ بات بیان کی ہے اور میں سمجھتا ہوں۔اپنی ذمہ داریوں کے لحاظ سے اگر اسے پہلے کئی سو بار بھی بیان کرچکا ہوں تو بھی مجھے بیان کرتے رہنا چاہیے کہ روحانی سلسلوں کی بنیاد الی افعال پر ہوتی ہے۔ان سے پہلے بھی دنیا میں حکومتیں ہوتی ہیں، بادشاہتیں ہوتی ہیں، منصف بھی اور ظالم بھی۔ان سے پہلے بھی جتھے ہوتے ہیں، منصف بھی اور ظالم بھی۔کمیٹیاں اور نظام ہوتے ہیں۔جن میں منصف بھی ہوتے ہیں اور ظالم بھی۔لیکن باوجود اس کے کہ دنیا میں اچھے بھی اور بُرے بھی، دونوں قسم کے نظام موجود ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ کو نیا نظام قائم کرنے کی کیا ضرورت ہوتی ہے۔یہی کہ اچھے نظاموں کی بنیاد انصاف پر ہوتی ہے اور بروں کی ظلم پر آسمانی بادشاہت ظلم کی برداشت نہیں کر سکتی مگر وہ انصاف سے بھی تسلی نہیں پاسکتی۔دنیا کے لوگوں میں سے اچھے انصاف کو دیکھ کر اور بڑے ظلم کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔لیکن آسمان کے فرشتے پھر بھی روتے ہیں۔کیونکہ وہ روحانیت کی بادشاہت دیکھنا چاہتے ہیں۔وہ ایسا نظام دیکھنا چاہتے ہیں جس کی بنیاد رحم پر ہو۔نوشیرواں اے کو بہترین عادل بادشاہ سمجھا جاتا ہے حتی کہ رسول کریم ﷺ نے بھی اس کی تعریف کی ہے۔بلکہ اس بات پر فخر کیا ہے کہ آپ۔