خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 302 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 302

خطبات محمود سال ۴۱۹۳۳ اس زمانہ میں پیدا ہوئے ہے۔لیکن اگر عدل و انصاف ہی کافی ہوتا تو ایسی عادلانہ حکومت کے بعد اللہ تعالیٰ کو رسول کریم" کے ذریعہ ایک نیا نظام قائم کرنے کی کیا ضرورت تھی۔مگر کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ اس کی اور اسلام کی حکومت ایک سی تھی۔اور اسلام نے حکومت کے لحاظ سے دنیا میں آکر اس سے زائد کوئی نئی چیز پیش نہیں کی۔عدل کے لحاظ سے تو کسی چیز کی ضرورت نہ تھی مگر آسمانی بادشاہت عدل پر خوش نہیں ہو سکتی۔عدل کا دائرہ اخلاق پر ختم ہو جاتا۔ہیں۔کہ وہ تو ہے۔اور اخلاق کا دائرہ عدل سے اوپر نہیں چڑھ سکتا لیکن روحانیت ایک ایسی چیز ہے عدل اس کی تسلی کر سکتا ہے اور نہ روحانیت اس سے تسلی پاسکتی ہے۔روحانیت کی بنیاد قربانی پر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ جس چیز پر عیسائی خوش ہوتے حقیقت میں کوئی بڑی چیز نہیں۔عدل تو صرف انسانی عقل کی ضرورت کو پورا کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔انسان محض اس ڈر سے کہ فساد نہ پیدا ہو، دوسرے کا حق نہیں دباتا اور اس کے ساتھ عدل کا برتاؤ کرتا ہے۔اس کیلئے آسمانی راہنمائی کی کوئی ضرورت نہیں۔آسمانی راہنمائی کی ضرورت وہاں ہوتی ہے جہاں انسان سمجھے کہ میں نے جو کچھ کرنا تھا کر لیا۔اس سے آمنے میری عقل نہیں چل سکتی۔تب آسمان سے اسے ایک نیا رستہ بتایا جاتا ہے۔یہی ضرورت ہے آسمانی بادشاہت کی، خدا تعالیٰ کے مرسلین کی اور اس کی کتابوں کی۔ہم اگر یہ تسلیم کرلیں کہ وہ بھی عقل کی حد تک آکر ختم ہو جاتی ہیں تو پھر ان کی کوئی ضرورت ہی باقی نہیں رہ جاتی۔عقل کہتی ہے کہ اگر کوئی تمہارے ساتھ نیکی کرے تو اس کے ساتھ تم بھی نیک سلوک کرو۔اور اگر کوئی ظلم یا شرارت کرے تو اسے اتنی سزا تم بھی دے دو۔اگر کسی نے تمہاری حق تلفی نہیں کی تو تم بھی اس کا حق نہ مارو۔لیکن یہ نہیں کہتی کہ اگر کوئی تم پر ظلم کرتا ہے تو اسے معاف کردو خواہ کوئی تمہارا بدخواہ ہو اس سے نیک سلوک کرو دوسروں پر احسان کرو۔اور حقیقی احسان یہی ہے کہ احسان کرنے والے کو بظاہر کوئی امید نہیں ہوتی کہ اس کے بدلہ میں اس کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کیا جائے گا۔مگر یہ ایک ایسی خوبی ہے جسے آسمانی بادشاہت ہی ظاہر کر سکتی ہے، انسانی عقل اس سے معذور ہے۔جب انسان کہتا ہے کہ میں ایسا کیوں کروں تو اللہ تعالیٰ کہتا ہے بے شک تم عقل سے اس فعل کی حکمت کو نہیں سمجھ سکتے ، مگر اس کا نتیجہ تمہیں میری طرف سے ملے گا۔پس جو روحانی جماعتیں ہوتی ہیں، وہ اس لئے قائم کی جاتی ہیں کہ اخلاق کے ایسے