خطبات محمود (جلد 14) — Page 300
خطبات محمود ۳۲ سال ۱۹۳۳ء جوش کی بجائے صبر اور دعاؤں سے کام لو جلسہ سالانہ پر دوسروں کو بھی ساتھ لاؤ (فرموده یکم دسمبر ۱۹۳۳ء) تشد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- آج میرا ارادہ تو یہی تھا کہ جلسہ سالانہ کے متعلق دوستوں کو توجہ دلاؤں۔اور انہیں تحریک کروں کہ اس کیلئے تیاری شروع کردیں۔لیکن رات کو مجھے ایک ایسی اطلاع ملی جس کی وجہ سے میں نے ضروری سمجھا کہ اگر جلسہ کیلئے خطبہ کو ملتوی نہ کروں تو کم سے کم اس معاملہ کو بھی اس میں شامل کرلوں۔کئی لوگ یہ اعتراض کیا کرتے ہیں۔حضرت خلیفہ امسیح الاول پر بھی کیا کرتے تھے اور مجھ پر بھی کہ بعض اوقات بغیر تحقیق کے بات بیان کردی جاتی ہے۔اور بغیر اس کے کہ دوسرے فریق کے بیانات کو سنا جائے اس کے متعلق اپنے خیالات ظاہر کر دیئے جاتے اگر تو بات اسی طرح ہو جس طرح معترض کہتے ہیں۔ہیں تو بیشک قابل اعتراض امر ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ نہ تو حضرت خلیفۃ المسیح الاول کا منشاء سمجھتے تھے اور نہ ہی میرے طریق کو سمجھتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ بعض اوقات ایسے امور جن کا تعلق قومی تربیت یا جماعتی عزت کے ساتھ بہت ہی گہرا ہوتا ہے۔ان کے متعلق بغیر اس کے کہ انہیں صحیح تسلیم کیا جائے اور بغیر اس کے کہ ان کے متعلق قضائی فیصلہ صادر کیا جائے ضروری ہوتا ہے کہ اس موقع۔۔