خطبات محمود (جلد 14) — Page 104
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء راستہ کھلتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں جو دوست باہر سے آیا کرتے تھے، وہ مشکل مسائل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے پوچھا کرتے اور اس طرح گفتگو کا موقع ملتا رہتا تھا۔اور بعض دوست تو عادتاً بھی کر لیا کرتے اور جب بھی وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی مجلس میں بیٹھتے کوئی نہ کوئی سوال پیش کر دیا کرتے۔مجھے ان میں سے دو شخص جو اس کام کو خصوصیت سے کیا کرتے تھے اچھی طرح یاد ہیں۔ایک میاں معراج دین صاحب عمر جو آج کل قادیان میں ہی رہتے ہیں اور دوسرے میاں رجب الدین صاحب جو خواجہ کمال الدین صاحب کے خسر تھے۔مجھے یاد ہے مجلس میں بیٹھتے ہی یہ سوال کر دیا کرتے کہ حضور فلاں مسئلہ کس طرح ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس مسئلہ پر تقریر شروع فرما دیتے۔تو جو دوست باہر سے آتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ اپنے مطالب پیش کرنے کے علاوہ مشکل مسائل دریافت کیا کریں تاکہ مجلس زیادہ سے زیادہ مفید ہو اور ان کے علاوہ دوسروں کو بھی فائدہ پہنچے۔میں نے بتایا ہے کہ اول تو میری عادت ہے کہ میں گفتگو شروع نہیں کر سکتا۔لیکن اگر میں کبھی نفس پر زور دے کر گفتگو شروع بھی کردوں تو بھی مجھے کیا معلوم ہو سکتا ہے کہ کسی کو کیا مشکلات درپیش ہیں۔گو ایسا بھی ہوتا ہے کہ بسا اوقات اللہ تعالیٰ القاء اور الہام کے ذریعہ زبان پر ایسی گفتگو جاری کر دیتا ہے کہ جو اس وقت کی مجلس کے مطابق ہو۔مگر پھر بھی کئی خیالات ایسے ہو سکتے ہیں جن کے متعلق کوئی شخص چاہتا ہو کہ وہ مجھ سے ہدایت لے لیکن سوال نہ کرنے کی وجہ سے وہ اس سے محروم رہے۔پس باہر سے آنے والوں کو چاہیے کہ وہ اس تبلیغی زمانہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایسے سوالات پوچھا کریں جن کے جوابات سے عام لوگوں کو فائدہ پہنچے۔مگر ایک چیز ہے جس کا خیال رکھنا چاہیئے اور وہ یہ کہ بعض لوگ سوال تو کرتے ہیں مگر ان کی غرض یہ نہیں ہوتی کہ مجھ سے کچھ سنیں بلکہ یہ ہے کہ اپنی سنائیں۔بعض مبلغین میں بھی یہ عادت پائی جاتی ہے۔جب وہ میرے پاس ہیں تو وہ شروع سے آخر تک مباحثہ کی روئداد سنانا شروع کر دیتے ہیں۔اور کہتے ہیں اس نے یہ اعتراض کیا میں نے یہ جواب دیا اس نے فلاں اعتراض کیا میں نے فلاں جواب دیا۔اور اس ذریعہ سے وہ اپنی گفتگو کو اتنا لمبالے جاتے ہیں کہ وہ ملال پیدا کرنے والا طول بن جاتا ہے اور پھر لوگوں کو بھی غصہ آتا ہے کہ یہ اپنی بات کیوں ختم نہیں کرتے۔جو لوگ میرے پاس آتے ہیں ان کی غرض یہ ہوتی ہے کہ مجھ سے کچھ سنیں یہ نہیں ہوتی کہ دوسروں آتے۔