خطبات محمود (جلد 14) — Page 103
سال ۱۹۳۳ء خطبات محمود ۱۰۳ آگے بڑھ گیا تو کیا نقصان ہے۔اور اس طرح ہر شخص کے ایک ایک انچ بڑھنے سے وہی مثال ہو جاتی ہے۔جیسے کہتے ہیں کہ ایک شخص کو وہم کی بیماری تھی۔وہ جب باجماعت نماز میں کھڑا ہوتا تو کہتا ” چار رکعت نماز فرض پیچھے اس امام کے" اور پھر خیال کرتا کہ امام اور میرے درمیان تو کئی صفیں ہیں، نیت ٹھیک نہیں ہوئی۔یہ خیال کرکے وہ بڑھتے بڑھتے پہلی صف میں آجاتا۔اور امام کی طرف اشارہ کر کے کہتا پیچھے اس امام کے۔آخر اس طرح بھی اس کی تسلی نہ ہوتی تو وہ امام کو ہاتھ لگا کر کہتا پیچھے اس امام کے۔پھر بڑھتے بڑھتے اس کے وہم کی یہاں تک کیفیت ہو جاتی کہ وہ امام کو دھکے دینے لگ جاتا اور کہتا جاتا پیچھے اس امام کے۔ہر شخص مجلس میں آگے آنا چاہتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ میرے ذرا سا آگے بڑھنے سے کیا نقصان ہو جائے گا۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ حلقہ نہایت ہی تنگ ہو جاتا ہے اور صحت پر اس کا بُرا اثر پڑتا ہے۔مگر علاوہ اس کے کہ صحت کیلئے یہ مفید بات نہیں اس کا نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ زیادہ آدمی اس حلقہ سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔مجھے ایسے حلقہ میں سخت تکلیف ہوتی ہے کیونکہ مجھے گلے اور آنکھوں کی ہمیشہ تکلیف رہتی ہے۔پھر یہ حلقہ تو بڑی بات ہے میری تو یہ حالت ہے کہ اگر لیمپ کی بیتی خفیف سی بھی اونچی رہے اور اس سے ایسا دھواں نکلے جو نظر بھی نہ آسکتا ہو، تو مجھے شدید ر کھانسی اور نزلہ ہو جاتا ہے۔ناک کی جس اللہ تعالی نے میری ایسی تیز بنائی ہے کہ میں دوسرے لوگوں کی نسبت کئی گئے زیادہ ہو یا خوشبو محسوس کرلیتا ہوں۔یہاں تک کہ جانوروں کے دودھ سے پہچان لیتا ہوں کہ انہوں نے کیا چارہ کھایا ہے۔جس شخص کے ناک کی حسّ اتنی شدید واقع ہو وہ اس قسم کی باتوں سے بہت زیادہ تکلیف محسوس کرتا ہے۔ایک اور ادب مجلس کا یہ مد نظر رکھنا چاہیئے کہ جہاں تک ہو سکے مجلس کو مفید بنانا چاہیئے۔اور خصوصاً جو باہر سے دوست آئیں اُنہیں چاہیے کہ اپنی مشکلات پیش کر کے میرے خیالات کرنے کی کوشش کیا کریں۔بہت لوگ خیال کرتے ہیں کہ شاید یہ بے ادبی ہے مگر میں معلومی ہے انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ یہ بے ادبی نہیں بلکہ مجلس کو مفید بنانا ہے۔میں نے دیکھا بسا اوقات مجلس میں دوست خاموش بیٹھے رہتے ہیں اور میں بھی خاموش بیٹھا رہتا ہوں۔میری اپنی طبیعت ایسی ہے کہ میں گفتگو شروع نہیں کر سکتا۔اس مقام کے لحاظ سے جو اللہ تعالٰی نے مجھے عطا فرمایا ہے میں کوشش کرتا ہوں کہ بولوں مگر طبیعت کی افتاد ایسی ہے کہ کوشش کے باوجود میں کلام شروع نہیں کر سکتا۔اور جب کوئی شخص سوال کرے تبھی میرے لئے گفتگو کا