خطبات محمود (جلد 14) — Page 324
خطبات محمود۔سیال ۱۹۳۳ء تسلیم شدہ قرار دے کر جاہل بن گئے ہیں۔اور جاہل سے بولنا ہمیں منظور نہیں۔دوسری وجہ یہ ہے کہ ان کی زندگی ان کے اخبار کے مسلمہ اصول کے مطابق مسیلمہ کذاب کی سی زندگی ہے اور جبکہ وہ اس زندگی میں سے گزر رہے ہیں تو ہم یہ کیوں کہیں کہ ان کی یہ زندگی چھوٹی ہو کر ان کے گناہوں کی لڑی چھوٹی ہو جائے۔باقی ہمارے لئے خدا تعالیٰ کا فیصلہ کافی ہے جو ہر روز ظاہر ہو رہا ہے اور جسے ہر شخص اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ خدایا! سچے اور جھوٹے میں فیصلہ کر۔ہم ہیں خدا تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہر روز ظاہر ہو رہا ہے۔اور کوئی سورج ہم پر ایسا نہیں چڑھتا جس میں اللہ تعالی کے فضل سے ہمیں پہلے سے زیادہ ترقی حاصل نہ ہوتی ہو۔آج تک میں نے اپنی خلافت میں ایک دن بھی ایسا نہیں دیکھا جس میں کسی نہ کسی نے بیعت نہ کی ہو۔پس جبکہ ہر روز سلسلہ احمدیہ ترقی کر رہا ہے۔ہر روز سلسلہ کی عظمت اور اس کی ہیبت میں اضافہ ہو رہا ہے اور جب کہ ہر روز مولوی ثناء اللہ صاحب کی عزت میں کمی آرہی ہے اور انہیں انتہار پر اشتہار دے کر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ رکھنا پڑتا ہے۔تو خداتعالی کا یہی فیصلہ لوگوں کو ہے بتانے کے لئے کافی ہے کہ صداقت کس طرف ہے۔مولوی ثناء اللہ صاحب ہمیشہ لافیں مارتے رہتے ہیں کہ انہی کا وجود ہمارے سلسلہ کی ترقی میں روک بن رہا ہے۔حالانکہ ان کی جو کچھ قدرو منزلت لوگوں کے دلوں میں ہے وہ اس سے ظاہر ہے کہ ان کے اپنے ساتھیوں نے ان پر۔کفر کا فتویٰ لگا دیا۔غیروں کا فتویٰ کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔اپنوں نے مولوی ثناء اللہ صاحب پر کفر کا فتویٰ لگایا۔پھر اُنہیں مکہ والوں پر بڑا ناز تھا۔وہاں سے بھی ان پر کفر کا فتویٰ لگ کر آیا۔پھر ایک زمانہ تھا کہ وہی اکیلے اہلحدیثوں میں کرتا دھرتا مانے جاتے تھے مگر پھر وہ وقت بھی آگیا کہ انہیں گرانے اور ذلیل کرنے کے لئے ایک ریٹائرڈ پٹواری یا اسی قسم کے عہدہ کے آدمی کو جن کو علم حدیث میں کوئی خاص ملکہ بھی حاصل نہ تھا، اہلحدیث کا امیر بنا دیا گیا۔یہ رُسوائی ہے جو مولوی ثناء اللہ صاحب کے حصہ میں آئی اور آ رہی ہے، اس کے مقابلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھو۔جس زمانہ میں آپ فوت ہوئے۔اس کا مقابلہ موجودہ زمانہ سے کرو۔کتنا عظیم الشان فرق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے قریب جو جلسہ سالانہ ہوا اس میں سات سو افراد شامل ہوئے تھے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس پر اس قدر خوش ہوئے