خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 325 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 325

خطبات محمود ۳۲۵ سال ۱۹۳۳ء تھے کہ آپ گھر میں آکر دیر تک اس کا ذکر کرتے رہے۔اور فرمانے لگے اب تو خدا تعالیٰ کی نصرت يَدْخُلُونَ فِی دِینِ اللهِ اَفواجامے کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔تو کجا یہ کہ جلسہ سالانہ پر سات سو احباب آئے تو اسے بڑی کامیابی سمجھا گیا۔اور کجا یہ کہ اب ہیں ہزار کے قریب لوگ آتے ہیں۔اور سات سو کے قریب نئے لوگ اس موقع پر بیعت کرتے ہیں۔اور سال میں تو پانچ چھ ہزار یا زیادہ لوگ بیعت میں شامل ہوتے ہیں۔یہ ترقی ہے جو حضرت سیح موعود علیہ السلام کی مولوی ثناء اللہ صاحب کے متعلق دعا کی موجودگی میں بلکہ خود مولوی ثناء اللہ صاحب کی موجودگی میں حاصل ہو رہی ہے۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کا فیصلہ ہمارے حق میں ہے۔ہم ہر روز ترقی کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل یہ ترقی اب اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ تعلیم یافتہ طبقہ سے بھی اگر ذکر ہو تو وہ یہی کہے گا کہ ہم کمزور ہیں۔لوگوں کی مخالفت سے ڈر آتا ہے ورنہ ہمیں احمدیت کے قبول کرنے میں کوئی عذر نہیں۔اس کے مقابلہ میں مولوی ثناء اللہ صاحب کے متعلق تعلیم یافتہ طبقہ سے سے پوچھو دلوں میں سب نفرت ہی کرتے ہوں گے گو ظاہراً کچھ عزت بھی کریں۔پس جب اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہمارے حق میں ہے تو ہمیں کیا ضرورت پڑی ہے کہ ہم انہیں چھیڑیں۔ہاں جب وہ خود چھیڑتے ہیں تو ہم جواب بھی دے دیتے ہیں۔مجھے پہلے کبھی ان کا اشتہار نہیں ملا۔اس دفعہ ملا تھا سو میں نے جواب دے دیا۔لیکن اگر وہ اپنی باتوں پر مصر ہیں تو اب بھی ان کیلئے موقع ہے۔اور اگر ایک ذرہ بھی ان میں تخم دیانت کا باقی ہے تو میں اعلان کرتا ہوں کہ وہ اپنے اخبار میں شائع کردیں کہ میں مرزا صاحب کو مفتری کذاب اور دجال خیال کرتا ہوں اور قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے مرزا صاحب کا شائع کیا ہوا طریق مقابلہ تسلیم کرلیا تھا اور اس کو صداقت کے پرکھنے کا معیار اُس وقت بھی سمجھتا تھا اور اب بھی سمجھتا ہوں۔اور یقین رکھتا ہوں کہ مرزا صاحب میرے مقابلہ کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔اے خدا! اگر میں اس دعوئی میں جھوٹا اور کاذب ہوں تو مجھے اپنے عذاب سے ہلاک کردے۔اس دعا کے شائع کرنے کے بعد اگر قریب ترین عرصہ میں وہ اللہ تعالی کی لعنت میں گرفتار نہ ہو جائیں اور خدا تعالی کی قمری تجلیات کا نشانہ نہ بن جائیں تو وہ بے شک اپنے آپ کو سچا سمجھیں لیکن یہ دعا شائع کرنے کی آج بھی ان میں جرات نہیں ہوگی۔وہ بہانے بنائیں گے بچنے کیلئے کئی طریق سوچیں گے لیکن اس صاف اور سیدھے راستہ کی طرف نہیں آئیں گے کیونکہ باوجود اس کے کہ وہ اس طریق فیصلہ