خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 323 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 323

خطبات محمود ، سال ۱۹۳۳ء۔ہے۔أَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ لو یعنی جاہلوں سے اعراض کرو۔اور مولوی ثناء اللہ صاحب اپنے اخبار میں یہ اقرار کر چکے ہیں کہ وہ جاہل ہیں۔اس طرح کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے جب مولوی ثناء اللہ کے متعلق دعائے مباہلہ شائع کی اور اس کے نیچے لکھا کہ :- ”میرے اس تمام مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔" تو مولوی صاحب نے اس کا جواب یہ دیا کہ یہ تحریر تمہاری مجھے منظور نہیں۔اور نہ کوئی دانا اس کو منظور کر سکتا ہے" سے جس کا مطلب ان کے نزدیک یہ تھا کہ جاہل ہی اس دعا کو منظور کر سکتا اور اسے معیارِ صدق قرار دے سکتا ہے۔مگر اب جو وہ اس کے متعلق بحث کرتے اور اسی دعا کو معیارِ صدق قرار یتے ہیں تو گویا اپنے فیصلہ کے ماتحت جاہل بنتے ہیں۔اور قرآن مجید میں آتا ہے اَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ یعنی جاہلوں سے اعراض کرو۔اس لئے ہم ان سے اعراض کرتے ہیں۔ہمارا انہیں مخاطب نہ کرنے کا دوسرا سبب یہ ہے کہ وہ جتنی دیر زندہ ہیں، اپنے فیصلہ کے مطابق مسیلمہ کذاب بن رہے ہیں۔وجہ یہ کہ اُس وقت ان کے اخبار میں یہ بھی شائع ہوا تھا کہ :- آنحضرت ا باوجود سچا نبی ہونے کے مسیلمہ کذاب سے پہلے انتقال ہوئے۔مسیلمہ باوجود کاذب ہونے کے صادق سے پیچھے مرا " سے اس طرح لکھا تھا خد اتعالیٰ جھوٹے دغا باز مفسد اور نافرمان لوگوں کو لمبی عمریں دیا کرتا ہے تاکہ وہ اس مہلت میں اور بھی برے کام کرلیں۔" ہے۔پس مولوی صاحب کا طریق فیصلہ یہ تھا کہ سچا فوت ہو جائے اور جو جھوٹا اور مسیلمہ کذاب کا بھائی ہو، وہ زندہ رہے۔اس معیار کے ماتحت جب مولوی ثناء اللہ صاحب زنده ہیں تو ہمیں ان سے اس بارے میں جھگڑنے کی کیا ضرورت ہے۔وہ تو جتنی دیر زندہ ہیں، اتنا ہی زیادہ اپنے آپ کو مسیلمہ کذاب ثابت کر رہے ہیں۔پس ہمارے پاس ان کو اس معاملہ میں مخاطب نہ کرنے کی دو وجہیں ہیں۔اول تو یہ کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طریق فیصلہ کے متعلق لکھا تھا کہ اسے کوئی دانا منظور نہیں کر سکتا۔لیکن وہ اب