خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 240 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 240

خطبات محمود ۲۴۰ سال ۱۹۳۳ء ہوں یہ نواب نہیں۔اس لئے یہ مجھے نہیں مار سکتا۔بادشاہ نے اسے کہا۔کاؤنٹ ٹالسٹائے میں تم کو حکم دیتا ہوں کہ اسے مارو - گویا کاؤنٹ کہہ کر اسے نواب بنادیا۔اسی وقت سے ٹالسٹائے کے خاندان کے افراد کاؤنٹ ٹالسٹائے کہلانے شروع ہو گئے۔تو اصل چیز بادشاہ کا حکم ہے۔جب اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ کرو تو کیا ہمارا حق ہے کہ ہم کہیں یہ بات چھوٹی ہے یا بڑی۔ہمارے ملک میں بھی یہ مثال مشہور ہے کہ محمود غزنوی کے پاس ایاز کے مخالفوں نے ایک دفعہ شکایت کی آپ کا بہت بدخواہ ہے۔اس نے کہا اس کا تجربہ کرنا چاہیے دربار منعقد کیا۔اور نہایت ہی قیمتی موتی جو دو تین لاکھ روپیہ کی مالیت کا تھا رکھ کر اس شخص سے جس نے شکایت کی تھی کہا کہ ہتھوڑا لے کر اسے توڑ دو۔وہ کہنے لگا حضور میں آپ اور آپ کے باپ دادا کا نمک خوار ہوں، مجھ سے ایسی گستاخی کہاں ہو سکتی ہے کہ میں موتی تو ڑ دوں۔بادشاہ کہنے لگا۔تم بڑے خیر خواہ ہو۔پھر دوسرے کو کہا۔اب بادشاہ نے ایک کو جو کہہ دیا کہ تم بڑے خیر خواہ ہو تو لگے انکار کرنے اور کسی نے بھی موتی نہ توڑا۔آخر ایاز کی باری آئی۔اس نے ہتھوڑا اُٹھایا اور ایک ہی وار سے اسے چکنا چور کر دیا۔سب لوگ گھبرا کر کہنے لگے حضور ! ہم نہ کہتے تھے کہ ایاز آپ کا بدخواہ ہے۔بادشاہ ایاز سے کہنے لگا۔ایاز ! ان سب نے میرے مال کا نقصان نہ کیا مگر تم نے اتنی دلیری سے کیوں نقصان کر دیا۔ایاز کہنے لگا انہیں مال سے محبت ہوگی مگر میرے لئے تو بادشاہ کے حکم کا ایک ایک لفظ اس موتی کے مقابلہ میں قیمتی ہے۔اس جواب کاسب پر اثر ہوا اور انہیں تسلیم کرنا پڑا کہ ایاز کے اخلاص کا مقابلہ وہ نہیں کرسکتے۔تو سب بحثوں کو جانے دو رہنے دو یہ بات کہ یہ چھوٹی چیز ہے یا بڑی۔سوال یہ ہے کہ جب خدا نے اس کا حکم دیا تو آیا ہمارے اخلاص کا تقاضا ہے یا نہیں کہ ہم اسے دنیا میں پھیلائیں۔صوفیاء کہا کرتے ہیں۔الامر فوق الادب۔پس تسلیم کرلو کہ تبلیغ احمدیت ایک چھوٹی بات ہے۔مگر جب تک ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ خدا نے کہا اسے پھیلاؤ - تو خواہ یہ چھوٹی ہے یا بڑی، ہم اسے دنیا میں پھیلا کر ہی دم لیں گے۔ہاں یہ ہر شخص کا حق ہے کہ وہ ثابت کرے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے ایسا نہیں کہا۔مگر اسی دن جب وہ اس بحث کا آغاز کریں گے، خود ہی اس بحث میں مشغول ہو جائیں گے جس سے وہ اب روک رہے ہیں۔اور اس طرح ثابت کردیں گے کہ یہ معمولی بات نہیں بلکہ اہم ہے۔باقی رہا یہ امر کہ تبلیغ سے اختلاف پیدا ہوتا ہے۔سو یہ بھی غلط ہے۔اختلاف تو دنیا میں ہمیشہ ترقی کا موجب ہوتا ہے۔جب زمین کو چھپٹی کہا