خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 241 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 241

خطبات محمود امهم علم سال ۱۹۳۳ جاتا تھا، اس وقت اگر زمین کو گول کہنے والے چپٹی کہنے والوں سے اختلاف نہ کرتے تو دنیا اس عظیم الشان نکتہ سے محروم رہ جاتی۔اسی طرح اگر اس امر میں اختلاف نہ کیا جاتا کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے یا سورج زمین کے گرد گھومتا ہے تو دنیا بہت سے فوائد سے محروم رہ جاتی۔جب پانی کو مفرد کہا جاتا تھا، اس وقت اگر اختلاف نہ کیا جاتا اور ثابت نہ کیا جاتا کہ پانی مفرد نہیں بلکہ بعض گیسوں سے مرکب ہے تو علمی ارتقاء کس طرح ہو سکتا۔غرض دنیا کی ترقی اختلاف پر مبنی ہے۔اور ترقی کا ذریعہ یہی ہے کہ جو نیا خیال ہو اسے لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے۔ہاں وہ شخص جو لڑتا ہے وہ خود فساد کی ابتداء کرتا ہے۔اس کا قصور اس کے ذمہ ہے۔نہ اس کے ذمہ جو کوئی بات بتاتا ہے۔رہا یہ کہ اس طرح دوسروں کو بھی جوش آئے گا اور وہ بحث کریں گے تو اس میں حرج ہی کون سا ہے۔میں تو ہمیشہ کہا کرتا ہوں کہ جس کا جی چاہیے آئے اور اگر مجھے اپنی باتیں سمجھائے۔اگر ہم یہ اپنا حق سمجھتے ہیں کہ دوسروں کو اپنی باتیں سنائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ دوسروں کی باتیں سننے سے ہم کنارہ کشی کریں۔اگر کوئی شخص اس طرح اپنی باتیں سنانا چاہے کہ میرے کام میں زبردستی روک نہ بن جائے یا فتنہ پیدا ہونے کا احتمال نہ ہو تو اگر میری فرصت کے اوقات میں زبانی ایسی صورت میں گفتگو کرتا ہے کہ جس میں گالی گلوچ یا طعن و تشنیع نہیں تو میں ایسے شخص کی باتیں سننے کیلئے ہر وقت آمادہ ہوں۔اسی طرح ہر احمدی کو دوسرے کی باتیں سننے کیلئے تیار رہنا چاہیئے۔ہاں اگر کوئی احمدی دوسرے سے لڑتا ہے تو میں اس کو پاگل خیال کروں گا۔جس طرح میں اس احمدی کو پاگل سمجھتا ہوں جو دوسروں کی باتیں نہ سنے اسی طرح اس احمدی کو بھی میں پاگل خیال کروں گا جو تبلیغ کرتے ہوئے لڑ پڑے۔غرض تبلیغ ایک نہایت ضروری چیز ہے۔اور یہ لغو بحث ہے کہ یہ چیز چھوٹی ہے یا بڑی۔ہمارا یقین ہے کہ یہ بات خدا نے کی۔پس ہمیں اس کے چھوٹے بڑے ہونے سے غرض نہیں۔ہمارے سامنے مقصد یہ ہے کہ ہم اسے لوگوں کے کانوں تک پہنچائیں۔بت کے سامنے جھک جانا کتنی چھوٹی بات ہے۔ایک جسم کی معمولی سی حرکت ہے مگر خدا کے حکم کے ماتحت یہی چیز بڑی بن گئی۔پس چھوٹی بڑی چیز کے سوال میں پڑنا فضول ہے۔ہمارا عقیدہ ہے کہ خدا نے کہا کہ جاؤ اور دنیا کو یہ پیغام پہنچاؤ۔ساری دنیا اسے چھوٹا کہے، ہمارے نزدیک بڑی ہی ہے۔ہاں اس کا علاج یہ ہے کہ وہ سمجھائیں کہ تمہیں خدا نے نہیں کہا۔لیں جس دن وہ