خطبات محمود (جلد 14) — Page 204
سال ۱۹۳۳ء خطبات محمود ۲۰۴ آپ لوگوں کا بیشتر حصہ قرآن مجید کے معارف سے ناواقف ہے اس لئے آپ لوگوں کا فرض ہے کہ دوسروں سے قرآن نہیں۔ہاں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو قرآن کو خوب سمجھتے ہیں اور وہ روحانی جماعت ہی کیا جس میں چند لوگ بھی ایسے نہ ہوں۔۔پس قادیان میں بیشک ایسا گروہ ہے جو قرآن کو سمجھتا ہے اور جو پچاس، ساٹھ سو نفوس پر مشتمل ہے لیکن اگر وہ بھی اس وجہ سے درس میں شامل نہیں ہوتے کہ درس دینے والا ان کی قابلیت کے برابر ہے یا ان سے علم میں کم ہے تو میرے نزدیک وہ متکبر ہیں اور تکبر کرنا کوئی اچھی بات نہیں۔ہاں اگر اور دینی کاموں کی وجہ سے نہیں آتے تو معذور ہیں، گنگار نہیں۔لیکن ان میں سے بھی بعض لوگوں کے متعلق مجھے معلوم ہے کہ وہ اوروں سے کہتے ہیں کہ درس میں ہوتا ہی کیا ہے لمبا سا درس ہوتا ہے۔کوئی کام کی بات تو بیان نہیں کی جاتی۔میں سمجھتا ہوں ایسے آدمی یقینا اللہ تعالی کا عرفان نہیں رکھتے۔ممکن ہے انہوں نے طوطے کی طرح قرآن مجید کے بعض مضامین کو رٹ لیا ہو لیکن ان کی زبانیں اور ان کے دل علوم قرآنی کے منکر ہیں۔کیونکہ قرآن مجید سے محبت اور عشق رکھنے والا انسان ایک لمحہ کیلئے بھی کسی کو قرآن سننے سے روک نہیں سکتا۔میں نے تو دیکھا ہے کہ اسلامی علوم اتنے باریک اور اس قدر متنوع ہیں کہ بعض دفعہ ایک بچے کے منہ سے بھی ایسی باتیں نکل جاتی ہیں جو حیرت کا موجب ہوتی ہیں۔کُجا یہ کہ ایسے شخص کا درس سنتا جس کی عمر قرآن مجید پڑھانے میں گزر گئی۔میں نے خود مذہب کے متعلق بچوں سے بعض ایسی باتیں سنی ہیں کہ میں نے محسوس کیا ہے اب تک میرے سامنے اس شکل میں وہ نہیں آئی تھیں۔اور میں تو سمجھتا ہوں کہ مومن ڑیوں سے بھی فائدہ اٹھالیتا ہے، دیواروں سے بھی فائدہ اٹھالیتا ہے، پتھروں سے بھی فائدہ اٹھالیتا ہے۔اگر۔یہ چیزیں ہمیں نقصان پہنچا سکتی ہیں تو فائدہ کیوں نہیں پہنچا سکتیں۔اگر ایک اینٹ سر پر گر کر کسی انسان کی جان لے سکتی ہے تو وہ فائدہ بھی دے سکتی ہے۔جس چیز میں زہر ہے اس میں تریاق بھی ہے۔اور قرآن مجید سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ زہر کم ہے اور تریاق زیادہ۔پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ کبر خود پسندی اور قرآن مجید سے تغافل کو چھوڑ کر درس سنا کریں ابھی نہیں دیکھ لو، جمعہ میں کتنے زیادہ آدمی موجود ہیں۔گو میں سمجھتا ہوں کہ نمبردار اب بھی شامل نہیں ہیں کیونکہ وہ ایسے ہیں جو پہلے رکوع یا پہلی رکعت میں شامل ہوتے ہیں یا جب جمعہ پڑھ کر لوگ واپس جارہے ہوں تو وہ آرہے ہوتے ہیں اور