خطبات محمود (جلد 14) — Page 205
خطبات محمود ۲۰۵ سال ۴۱۹۳۳ راستہ میں ہی پوچھ لیتے ہیں۔اچھا جمعہ ہو گیا۔پھر میں نے دیکھا ہے بہت لوگ اپنے بچوں کو ساتھ لانے میں غفلت کرتے ہیں۔میں نے آج ہی جمعہ کیلئے آتے ہوئے بہت سے بچوں کو یا دھر اُدھر دکانوں پر کھڑے دیکھا ہے حالانکہ اگر بچے بھی مسجد میں آجائیں تو اس سے دگنی جگہ بھی کفایت نہیں کرسکتی۔سکولوں کے ہیڈ ماسٹر اگر توجہ کریں تو چار پانچ سو لڑکا ہی درس میں شامل ہو سکتا ہے۔میں نے دیکھا ہے میرے درس میں سات آٹھ سو کے قریب آدمی جمع ہو جاتے تھے حالانکہ اس وقت سے ہماری قادیان کی جماعت کی تعداد دُگنی ہو چکی ہے۔معمولی حالتوں میں تین ساڑھے تین سو آدمی آیا کرتے تھے۔اور آج تو سولہ یا سترہ سو باقاعدگی کی حالت میں اور چھ سات سو بغیر اطلاع کئے بھی جمع ہو جانے چاہئیں: قرآن کا درس تو ایسی چیز ہے جسے زیادہ وسیع کرنا چاہیئے۔محلوں کی مساجد میں درس ہونا چاہیے تاکہ کمزور اور بیمار لوگ اپنی اپنی مساجد میں ہی درس سن لیا کریں۔پس بجائے کم کرنے کے ہمیں درس کو زیادہ وسیع کرنا چاہیے۔ہماری جماعت کے لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک شعر پڑھا کرتے ہیں بلکہ دشمن بھی پڑھ لیتے ہیں جو یہ جمال و حسنِ قرآن نور جان ہر مسلماں ہے قمر ہے چاند اوروں کا ہمارا چاند قرآں ہے و شخص "نور جان ہر مسلمان کو چھوڑتا ہے اس کے پاس باقی کیا رہا جب جان ہی نہ رہی تو بے جان کو تو لوگ دفن کر دیتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس شعر میں قرآن مجید سے اپنے عشق کا اظہار کیا ہے آپ فرماتے ہیں۔ہے چاند اوروں کا ہمارا چاند قرآں ہے یعنی لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ ہمارا بچہ فلاں چاند میں پیدا ہوا۔اب دو سال کا ہو گیا ہے اب چار سال کا ہو گیا فرمایا لوگوں کو تو اس بات کا فکر ہوتا ہے کہ ان کا بچہ کتنا بڑھا مگر ہمیں اس بات کا فکر رہتا ہے کہ قرآن کتنا بڑھا اس کا علم لوگوں میں وسیع ہوا یا کم ہو گیا۔پس یاد رکھو قرآن ہماری جان، ہماری غذا اور ہماری روحانی ترقی کا واحد ذریعہ ہے۔یہاں مختلف سکولوں کے طالب علم رہتے ہیں جن میں اگر پرائیویٹ طلباء بھی شامل کرلئے جائیں تو سات آٹھ سو کے قریب ان کی تعداد ہو جاتی ہے کیونکہ سو ڈیڑھ سو پرائیویٹ طالب علم ہوتے ہیں۔اگر سکولوں