خطبات محمود (جلد 14) — Page 203
خطبات محمود ٢٠٣ سال ۱۹۳۳ء طریق کو حکماً جمع کر کے اپنے درس میں صرف ان کو شامل ہونے کی اجازت دوں جو پہلے درس میں شامل ہوئے تھے۔اور اس طرح لوگوں کے دلوں میں ندامت پیدا کروں۔لیکن پھر مجھے خیال آیا کہ گو اس سے بعض لوگوں کی اصلاح ہوگی۔لیکن بعض لوگ بے حیائی میں ترقی کر جائیں گے۔اس لئے میں نصیحت کے طور پر آپ لوگوں سے کہتا ہوں کہ قادیان میں آپ لوگوں کا آنا قرآن مجید اور دین سیکھنے کیلئے ہے۔اگر یہاں کی زندگی سے کوئی برکت حاصل کرنی ہے تو اس سے حاصل کرنی چاہیے جس سے حاصل ہو سکتی ہے۔یاد رکھو ہر چیز کیلئے خدا تعالیٰ نے دروازے مقرر کئے ہیں۔اور ان سے گزرے بغیر کبھی کامیابی نہیں ہو سکتی۔قرآن مجید نے اس مضمون کو نہایت وسیع طور پر بیان فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ ہمیشہ گھروں میں ان کے دروازوں آیا کرو۔اس سے لوہے، اینٹ پتھر یا لکڑی کے ہی دروازے مراد نہیں کیونکہ آج کل ہر قسم کے دروازے تیار ہو رہے ہیں۔بلکہ گھر سے تمام وہ چیزیں مراد ہیں جو انسان کے آرام کا موجب ہوں۔جب تک انسان ان دروازوں سے داخل نہ ہو جن سے آرام حاصل کیا جاسکتا ہے اُس وقت تک آرام حاصل نہیں ہوتا۔مثلاً دنیاوی علوم ہیں جو استاد سے سیکھے بغیر نہیں آتے۔روحانی علوم خدا تعالیٰ کی محبت پیدا کئے بغیر اور اس کے احکام پر چلنے اور شعائر اللہ کا ادب اور احترام کرنے اور قرآن مجید پر غور و تدبر کرنے اور اسے سمجھنے کی کوشش کئے بغیر نہیں حاصل ہوتے۔روحانیت اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتی جب تک اپنے اندر عشق سوزوگداز اور تڑپ پیدا نہ کی جائے۔پس قرآن مجید کے درس کو نظر انداز کردینا سخت نادانی اور غفلت ہے۔استاد اپنے شاگرد کے علم سے خوب واقف ہوتا ہے۔اور گو شاگرد بعض دفعہ سمجھتا ہے کہ میں استاد سے بھی زیادہ لائق ہو گیا ہوں مگر استاد جانتا ہے کہ شاگرد کی علمی قابلیت کس حد تک ہے۔پس گو آپ لوگ اپنے آپ کو قرآن سننے سے مستغنی سمجھیں اور خیال کریں کہ آپ لوگوں کو بہت قرآن آتا ہے مگر میں آپ لوگوں کا استاد ہوں۔اور میں جانتا ہوں کہ آپ لوگوں میں سے ایک فیصدی بھی ابھی قرآن کو پوری طرح سے نہیں سمجھے۔ننانوے فیصدی لوگ محتاج ہیں اس بات کے کہ وہ بار بار درس سنیں یہاں تک کہ موت سے پہلے ان پر ایسا وقت آجائے کہ وہ قرآن کا کچھ نہ کچھ فہم رکھتے ہوں۔پس اگر آپ لوگ سمجھتے بھی ہوں کہ آپ عالم قرآن ہیں تو کم از کم آپ کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ آپ کے استاد کی رائے یہی ہے کہ آپ ابھی قرآن نہیں جانتے اور اس کی نصیحت آپ کو یہی ہے کہ چونکہ