خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 73

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء تبلیغ کے ساتھ دُعاؤں میں بھی لگے رہو فرموده ۲۴ - مارچ ۱۹۳۳ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- میں نے پچھلے جمعہ لاہور میں اس بات پر خطبہ پڑھا تھا کہ مومن کو ابتلاء آتے ہی رہتے ہیں اور اسے صبر سے کام لینا چاہیئے۔اور ان دنوں ہماری جو مخالفت ہو رہی ہے بجائے اس کے کہ ہم اس سے گھبرائیں یا ڈریں یا لوگوں پر توکل کرکے حکومت یا اپنے ہم وطنوں سے اپیل کریں، ہمیں چاہیے کہ اس کے ازالہ کا صحیح طریق اختیار کریں۔یعنی تبلیغ کریں اور محبت میں اور ترقی کریں تا اللہ تعالیٰ ہمارے کام میں برکت دے۔وگرنہ جب تک مخالف موجود ہیں، اُس وقت تک مخالفت ہوتی رہے گی۔اگر آج دب بھی گئی تو تکل پھر شروع ہو جائے گی۔لیکن تبلیغ ایک ایسا ذریعہ ہے جو ہمیشہ کیلئے مخالفین کو بھی ہمارا ساتھی بنادے گا۔اس کے بغیر ہمارے سب تعلقات اور دوستی خواہ وہ حکومت سے ہو یا ہم وطنوں سے عارضی علاج ہے۔جیسے شدید درد کے موقع پر بیمار کو افیون دے دی جاتی ہے تا اُسے نیند آجائے لیکن یہ اصل علاج نہیں ہوتا۔اصل علاج یہی ہے کہ تکلیف کے منبع کو دور کیا جائے۔اسی طرح ہماری مخالفت کا منبع اختلاف ہے اور اس کا اصل علاج یہ ہے کہ اسے دور کیا جائے۔آج میں اسی بات کے دوسرے حصہ کو بیان کرتا ہوں۔اور وہ یہ ہے کہ تبلیغ کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے پاس جس کے ساتھ ہمارا حقیقی تو کل ہو سکتا ہے ہماری اپیل ہونی چاہیئے۔گورنمنٹ خواہ کیسی ہی خیر خواہ کیوں نہ ہو ، وہ اپنی دوسری رعایا کا خیال رکھنے پر مجبور ہے۔مجھے