خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 72

خطبات محمود ۷۲ سال ۱۹۳۳ء کیونکہ تمہارے پاس یہی چیز ہے جس سے کامیابی ہوگی۔وہ اگر گالیاں بھی دیں تو جیسے شہد کے چھتے پر اگر کوئی شخص پتھر مارے تو اُس سے شہد ہی ٹیکے گا۔اسی طرح تمہارا فرض ہے کہ تم گالیوں کے جواب میں دعائیں دو۔مت خیال کرو کہ نرمی سے کیا بنتا ہے۔دل اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں۔نرمی کا اثر ہوتا ہے اور آخر سخت دل بھی جھکنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔پس تم ثابت کردو کہ تمہارے اندر نیکی اور تقویٰ ہے۔اگر مخالف پتھر مارتے ہیں تو تم دعائیں دو۔گالیاں دیتے ہیں تو انہیں برداشت کرو۔اور اللہ تعالیٰ سے رو رو کر دعائیں کرو کہ ان لوگوں کو ہدایت دے۔اور یاد رکھو کہ اگر اللہ تعالٰی سے دعائیں کرو گے تو اس کی نصرت اور تائید ایسے رنگ میں ظاہر ہوگی کہ انسانی تدابیر اس کا مقابلہ نہیں کر سکیں گی۔باقی حکومت ہر جگہ ساتھ نہیں دے سکتی وہ جنگلوں اور پہاڑوں میں ہمارے ساتھ نہیں ہو سکتی۔چین، جاپان ، افغانستان، مصر اور شام وغیرہ میں اس حکومت کی تائید ہمارا کچھ نہیں بنا سکتی۔پس ساری دنیا میں پھیلنے کا عزم رکھنے والی قوم کو کسی ایک جگہ کے آدمیوں کی دوستی پر انحصار نہیں کرنا چاہیے بلکہ ایسی ہستی سے دوستی پیدا کرنی چاہیے جو ہر جگہ موجود ہے اور وہ خدا تعالیٰ ہے۔۔الفضل ۲۳- مارچ ۱۹۳۳ء) له بخاری كتاب الجهاد باب يقاتل من وراء الامام ويتقى به ترمذی ابواب الزهد باب فى الصبر على البلاء۔سے العنكبوت: ۴۳ الرعد: ۱۸ ه انوار الاسلام صفحه ۲۴٬۲۳ روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۲۴٬۲۳ له الفاتحة: ۵ بخارى كتاب الاحكام باب ماذكر ان النبى لم يكن له بواب، بخارى كتاب الجنائز باب زيارة القبور ونس: ۳۱ شه بخاری باب كيف كان بدء الوحى الى رسول الله الله ه مسلم كتاب الجهاد والسير باب مالقى النبى من أذى المشركين والمنافقين