خطبات محمود (جلد 14) — Page 74
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء خوب یاد ہے کہ پنجاب کے ایک گورنر نے مجھے کہا تھا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہم تمام اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کر سکتے ہیں۔اُس وقت میں نے اسے یہی جواب دیا تھا کہ کم سے کم آپ کا یہ فرض ضرور ہے۔لیکن میں سمجھتا ہوں انسانی نقطہ نگاہ سے یہ بات حکومت کیلئے ناممکن ہے۔اور اس کا ایک ثبوت نہایت واضح طور پر ہمارے سامنے آچکا ہے۔ایک دفعہ فوج میں ملازم احمدیوں کو کوئی شکایت تھی جس کے سلسلہ میں ایک دوست چیف آف دی جنرل سٹاف سے ملے۔اُس نے اظہارِ ہمدردی کیا اور کہا ہم جانتے ہیں آپ مظلوم ہیں۔اور ناحق صرف مذہبی مخالفت کی وجہ سے آپ کو تکلیف دی جاتی ہے۔اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ وفادار ہیں اور ہر حال میں آپ پر اعتماد کیا جاسکتا ہے۔لیکن آپ اگر اپنے آپ کو میری جگہ رکھ کر دیکھیں تو یقیناً آپ کے مد نظر یہی بات ہوگی کہ جو کام آپ کے سپرد ہے جس طرح بھی ہو سکے وہ چلے۔یعنی فوجی نظام درست رہے۔اور اگر ہم آپ کی خاطر دوسروں کو ناراض کرلیں تو کیا ہمیں پوری فوج دے سکیں گے۔مثلاً ہمیں دولاکھ سپاہیوں کی ضرورت ہے، کیا آپ مہیا کرسکتے ہیں۔اگر نہیں تو سمجھ لیں کہ ملک کی حفاظت کیلئے ہمیں ان لوگوں کے ساتھ صلح رکھنی پڑتی ہے اور ان کے احساسات کا لحاظ ضرور رکھنا ہوتا ہے۔لیکن یہ بندوں کا حال ہے اور وہ مجبور بھی ہیں۔اس لئے ہماری حقیقی اپیل اللہ تعالی کے پاس ہونی چاہیے۔مگر اللہ تعالیٰ بھی یہ نہیں کیا کرتا کہ فرشتے انسان کی صورت میں بھیج کر امداد کرے جو لوہے کی تلواروں سے لڑیں۔اور نہ ہی آسمانوں سے آوازیں آیا کرتی ہیں بلکہ وہ دلوں میں محبت پیدا کر دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے سامان بھی بشری ہی ہوتے ہیں لیکن لوگ سمجھتے نہیں۔ایک شخص ایک کام کیلئے چھ ماہ تک دعائیں کرتا ہے۔آخر ایک آدمی اُسے مل جاتا ہے جو ایک ہی دن میں اس کا کام کر دیتا ہے۔اور وہ اپنی ناسمجھی کی وجہ سے کہنے لگ جاتا ہے کہ چھ ماہ تک دعا کرتا رہا تو کچھ نہ بنا۔اور فلاں آدمی نے ایک ہی دن میں کام کر دیا۔حالانکہ وہ نادان نہیں جانتا کہ وہ آدمی ملا ہی دُعا کے نتیجہ میں تھا۔اور اپنی ناواقفی کی وجہ سے وہ دعا کی قبولیت کے نتیجہ کو اس کے خلاف سمجھ لیتا ہے۔ایک شخص کا کوئی عزیز یا وہ خود بیمار ہے، وہ صحت کیلئے دعا کرتا ہے اور اسے کوئی اچھا ڈاکٹر مل جاتا ہے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی دعا کو قبول کر کے اس ڈاکٹر کو بھیج دیا۔نہیں کہ دعا سے صحت نہ ہو سکی۔اور اس ڈاکٹر نے بیمار کو اچھا کر دیا۔اس ڈاکٹر کا مل جانا دعا " ¡