خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 282

خطبات محمود PAY سال ۱۹۳۳ء غلطی کی۔اس پر اس نے وہ پروف نکال کر سامنے رکھ دیا اور کہا دیکھو! مرزا صاحب ایسا دعویٰ کرتے ہیں۔خلیفہ اول نے کہا کہ اگر میرزا صاحب کا یہ دعویٰ ہے تو میں سمجھوں گا میرے معنے غلط ہیں کیونکہ جب آپ کو مامور مان لیا تو پھر میں ہی غلطی پر ہو سکتا ہوں وہ نہیں ہو سکتے۔سن کر اس کا رنگ زرد ہو گیا۔اور اس نے کہا چلو اس کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔تو صدیقیت یہی ہے کہ نفس عکس قبول کرنے کیلئے پہلے سے تیار ہو۔اسے دبانا نہ پڑے بلکہ اس کے متعلق تو یہ خدشہ ہوتا ہے کہ گرفت زیادہ پڑ کر ضرر نہ پہنچ جائے۔جیسے ہم جب کسی نرم چیز کو پکڑتے ہیں تو آہستگی سے پکڑتے ہیں لیکن سخت چیز کو پکڑتے وقت زور سے ہاتھ ڈالتے ہیں۔أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ کی کیفیت جس شخص کے اندر ہو وہ برداشت نہیں کر سکتا کہ کوئی غیر آکر اس پر اثر ڈالے۔وہ اپنے سے اونی اپنے بھائی کا احسان۔اُٹھالے گا لیکن اپنے سے اعلیٰ کسی غیر کا احسان اُٹھانا گوارا نہ کرے گا۔اس کیفیت کی مثال بھی حضرت ابوبکر میں ملتی ہے۔جب مکہ میں مسلمانوں کے خلاف مخالفت کا طوفان اُٹھا۔اور قریش نے کہا کہ ان کو ایسا تنگ کرو کہ توبہ پر مجبور ہوجائیں۔تو بہ تو انہوں نے کیا کرانی تھی ہاں سختی انتہاء کو پہنچ گئی۔قرآن کریم یا نماز تک پڑھنا مشکل تھا۔اس وقت حضرت ابوبکر نے رسول کریم ﷺ سے عرض کیا کہ اگر اجازت ہو تو کہیں باہر چلا جاؤں جہاں عبادت الہی بلا روک ٹوک ہو سکے۔آپ نے اس وقت اجازت دے دی۔اگر ؟ بعد میں جب آپ کو علم ہوا کہ آپ کو بھی ہجرت کرنی پڑے گی تو آپ ان کو روکتے رہے۔حضرت ابوبکر مکہ سے جانے کی تیاریاں کر رہے تھے کہ ایک سردار مکہ سے ان کے پاس آیا اور پوچھا کہاں جاتے ہو؟ آپ نے کہا میں مکہ کو چھوڑ رہا ہوں یہاں نمازوں وغیرہ کی آزادی نہیں۔اس نے کہا ہم آپ کی منت کرتے ہیں کہ آپ نہ جائیں۔آپ جیسے آدمیوں سے تو مکہ میں برکت ہے میں لوگوں کو سمجھاؤں گا۔پھر اس نے لوگوں سے کہا۔لوگوں نے مان لیا اور حضرت ابو بکر کو آزادی ہو گئی ہے۔لیکن ایک دن آپ نے جب دیکھا کہ بعض غلام مسلمانوں کو تکالیف دی جارہی ہیں تو آپ نے کہہ دیا کہ میں کسی کی پناہ نہیں چاہتا۔مجھے۔پسند نہیں کہ باقی مسلمانوں کو دکھ ہو اور میں امن میں رہوں۔اس طرح آپ نے دوسروں کا احسان اُٹھانے سے انکار کردیا۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ایک روایت سنی ہے کہ ایک دفعہ حضرت ابوبکر کی مجلس میں آپ کے فرزند عبدالرحمن نے جو