خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 283 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 283

خطبات محمود ۲۸۳ سال ۱۹۳۳ء نہیں مخالف تھے مگر بعد میں انہوں نے بہت ترقی کی کہا کہ ایک دفعہ مجھے دشمنوں کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف جنگ کیلئے جانا پڑا ایک موقع پر آپ ایسی جگہ تھے کہ میں آپ پر وار کر سکتا تھا مگر باپ سمجھ کر میں نے ایسانہ کیا۔یہ سن کر حضرت ابوبکر نے کہا خدا کی قسم! اگر میں ایسا موقع پاتا تو ضرور وار کردیتا ہے۔تو أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ کے ہی معنے ہیں کہ مومن جہاں ایک طرف حق کے عکس اور اثر کے مقابلہ میں ایسا ٹرم ہوتا ہے کہ ان کا معمولی دباؤ بھی برداشت نہیں کر سکتا اور ایسا ہوتا ہے جیسے تصویر لینے کا شیشہ۔وہاں دشمن کے مقابل میں اس کی یہ حالت ہوتی ہے کہ بیٹے کی جان کی بھی اسے کوئی پرواہ ہوتی۔اس قسم کے اور بھی لوگ صحابہ میں موجود تھے۔حضرت عثمان بن مظعون کے متعلق ایک اسی قسم کا واقعہ آتا ہے کہ ایک دفعہ ایک شاعر نہ جو کہیں باہر سے آیا ہوا تھا، اپنا کلام سنا رہا تھا۔اس نے ایک شعر کا ابھی پہلا ہی مصرعہ پڑھا تھا کہ آپ نے کہا خوب ہے۔اس پر وہ بہت جزبز ہوا۔اور اس نے کہا مجھے تیرے جیسے انسان کی داد کی کیا ضرورت ہے۔پھر اس نے اہل مکہ کو مخاطب کرکے کہا کہ کیا اب تمہارے ہاں شرفاء کی یہی قدر ہوتی ہے۔اس کے بعد اُس نے دوسرا مصرعہ پڑھا تو آپ نے فرمایا یہ ٹھیک نہیں۔اس پر مکہ کے رؤسا میں سے ایک نے اٹھ کر آپ کو ایسا مکا مارا کہ آپ کی ایک آنکھ نکل گئی۔آپ اس واقعہ سے کچھ عرصہ قبل تک ایک شخص کی پناہ میں تھے۔مگر خود ہی دوسرے مسلمانوں کی تکالیف کو دیکھ کر اس کی پناہ ترک کر دی تھی۔وہ شخص آپ کا عزیز بھی تھا، یہ حالت دیکھ کر اسے رنج ہوا۔اور اس نے کہا میری پناہ میں نہ رہنے کا نتیجہ تم نے دیکھ لیا۔آپ نے جواب دیا میں اس قسم کا احسان اُٹھانے کو اب بھی تیار نہیں ہوں میری تو دوسری آنکھ بھی اسی کی منتظر ہے ہے۔تو صحابہ میں اور بھی کئی صدیق تھے۔حضرت ابوبکر تو ایک اعلیٰ نمونہ تھے۔حضرت عثمان بن مطعون بعد میں شہید ہوئے۔حضرت رسول کریم ﷺ کو آپ سے اتنی محبت تھی کہ وفات کے قریب تک محبت سے ان کا ذکر کرتے رہے۔حتی کہ جب آپ کے صاحبزادہ حضرت ابراہیم کی وفات کا وقت آیا۔تو آپ نے انہیں اپنی گود میں لیا۔اس وقت آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور آپ نے کہا۔جا! اپنے بھائی عثمان کے پاس ہے۔میں بتا رہا تھا کہ مومن کے اندر ایک طرف تو اتنی شدت ہوتی ہے کہ دوسرے کا اثر اس پر ہو ہی نہیں سکتا اور دوسری طرف ایسی نرمی ہوتی ہے کہ گویا اثر پہلے ہی پڑا ہوا ہوتا