خطبات محمود (جلد 14) — Page 281
خطبات محمود PAI سال ۱۹۳۳ء۔وقت کہا جب ضد ہو گئی وگرنہ شروع شروع میں وہ پاگل ہی سمجھتے تھے۔آپ کے دعوئی کو سنتے رم ہی عام چرچا شروع ہو گیا۔حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نسبت روایت ہے کہ وہ ایک دوست کے گھر میں بیٹھے تھے کہ ایک لونڈی آئی اور اس نے کہا کچھ سنا ہے۔آپ نے فرمایا کیا ہوا؟ اس نے کہا تمہارے دوست محمد ﷺ کی عقل ماری گئی ہے۔آپ نے دریافت فرمایا کہ بات کیا ہے۔اس نے کہا وہ کہتا ہے خدا میرے ساتھ باتیں کرتا ہے، میرے پاس فرشتے آتے ہیں، میں نبی ہوں۔حضرت ابو بکر نے سن کر کہا اگر وہ ایسا کہتا تو ٹھیک کہتا ہے۔اس کے بعد آپ وہاں ٹھرے نہیں بلکہ فوراً آئے اور رسول کریم ﷺ کے مکان پر پہنچے۔رسول کریم ال اس وقت اندر تھے حضرت ابوبکر نے جب دستک دی تو آپ باہر تشریف لائے۔حضرت ابوبکر نے کہا۔میں نے سنا ہے کہ آپ نے کوئی دعوی کیا ہے۔آپ اس خیال سے کہ ابوبکر پرانا دوست ہے ایسا نہ ہو کہ ٹھوکر کھا جائے کوئی دلیل دینے لگے۔لیکن حضرت ابو بکر نے کہا مجھے کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔آپ صرف یہ بتائیں کہ آپ نے کوئی دعویٰ کیا ہے یا نہیں۔حضرت ابو بکر " اگر دلیل سننے کے بعد ایمان لاتے تو مصدق ہوتے، صدیق کا مقام نہ حاصل کر سکتے۔صدیقیت کیلئے دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ یہ انسان کے اندر سے آتی ہے۔اور جب رسول کریم ﷺ نے بتایا کہ ہاں میں نے نبوت کا دعوی کیا ہے تو آپ نے فوراً کہا میں اس کا مُصدّق ہوں ہے۔حضرت خلیفہ اول کا بھی قسم کا واقعہ ہے جو آپ خود سنایا کرتے تھے۔فرماتے میں جموں میں تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اُس وقت توضیح مرام اور فتح اسلام رسائل چھپوا رہے تھے۔ان کا کوئی پروف کسی غیر احمدی نے چرایا اور جموں لے آیا۔وہاں اپنے دوستوں سے کہا کہ میں نے اب نوردین کو قابو کرنے کا سامان کر لیا ہے۔انہوں نے پوچھا کس طرح قابو کر لیا ہے۔اس نے کہا کہ خواہ کچھ بھی ہو میں یہ جانتا ہوں کہ اس کے دل میں رسول کریم کا عشق ضرور ہے۔اور اب میں نے ایک ایسی بات مرزا صاحب کی پکڑی ہے کہ جس شخص کے دل میں رسول کریم اللہ کا عشق ہو وہ انہیں کبھی نہیں مان سکتا۔آخر کچھ لوگ ایک دن اکٹھے ہو کر ا آئے۔اور اس شخص نے خلیفہ اول سے دریافت کیا کہ رسول کریم ا ا ا ا ل و خاتم النبین ہیں یا - نہیں؟ آپ نے کہا ہیں۔اُس نے پوچھا آپ کے بعد کوئی رسول آسکتا ہے یا نہیں؟ آپ نے کہا نہیں۔اس نے کہا اگر کوئی ایسا دعویٰ کرے؟ آپ نے فرمایا کہ میں سمجھوں گا اس نے اسی