خطبات محمود (جلد 14) — Page 84
خطبات محمود ۸۴ سال ۱۹۳۳ء تھے۔معمولی زندگی کو بھی اللہ تعالٰی کے راستہ میں قربان کرنے کیلئے تیار نہیں تو وہ کس طرح اس سودے کی امید کر سکتا ہے جس کا تعلق ہمیشہ کی زندگی سے ہے۔پس ابتلاء اور مصیبتیں مومن کا خاصہ ہیں اور ایمان کے چلا کیلئے ان چیزوں کا ہونا ضروری ہے۔اگر ابتلاؤں، ٹھوکروں اور گالیوں سے بے عزتی ہوتی ہے تو ماننا پڑے گا کہ نَعُوذُ بِاللهِ رسول کریم ﷺ کی بے عزتی ہوئی کیونکہ آپ کو گالیاں دی گئیں۔اتنی کہ کسی اور کو آج تک نہیں ملیں۔تکالیف پہنچائیں گئیں اور اس قدر کہ کوئی شخص ان کی نظیر پیش نہیں کر سکتا۔ایک دفعہ آپ نماز پڑھ رہے دشمن ایک اوجھڑی اُٹھالائے جو غلاظت سے بھری ہوئی تھی اور آپ کے اوپر ڈال دی ہے ایک دفعہ آپ کے جلے میں رسی ڈال کر کھینچا گیا اور کوشش کی گئی کہ آپ " کا دم گا جائے ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بھی اسی طرح کی تکلیفیں دی گئیں۔آپ کا راستہ بند کیا گیا، لیکچروں میں پتھر برسائے گئے۔غرض ہر رنگ میں ہتک کی گئی گالیاں بھی دی گئیں۔ایک دفعہ آپ مجلس میں بیٹھے تھے کہ ایک مخالف آیا اور آپ کو گندی گالیاں دینے لگ گیا۔اس پر بعض کو غصہ بھی آیا مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انہیں روک دیا۔تھوڑی دیر کے بعد جب وہ گالیاں دے کر خاموش ہو گیا تو آپ نے فرمایا۔آپ لوگ معذور ہیں کیونکہ آپ کو یہی تعلیم دی گئی ہے۔غرض رسول کریم ﷺ کو اور ہر رنگ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو تکالیف پہنچائیں گئیں۔اگر یہ تکلیفیں ذلّت ہیں تو پھر ہمارے لئے عزت کی کون سی بات ہے۔جب ہمارے پیاروں نے گالیاں کھائیں تو کیا ہم ان سے زیادہ معزز ہیں کہ ہمیں یہ گالیاں ذلت معلوم ہوں۔اور اگر ذلّت نہیں بلکہ عزت ہیں تو پھر وہ کون سا بیوقوف ہے جو دعا کرے کہ خدایا! مجھے عزت نہ بخش۔جب خدا کیلئے گالیاں کھانا خدا کیلئے ماریں کھانا خدا کیلئے جانی اور مالی نقصان برداشت کرنا ہتک عزت کی بات نہیں بلکہ معزز بنانے والی بات ہے تو وہ شخص جو یہ کہتا ہے کہ مجھے عزت نہ ملے یا پاگل ہے یا منافق۔لیکن خدا کے دربار میں پاگلوں اور منافقوں کی عزت نہیں ہو سکتی، وہاں مخلص بندوں کو ہی جگہ ملتی ہے۔پس اپنے اخلاق کو درست کرو اور یاد رکھو کہ جو اخلاق سے فتح حاصل ہوتی ہے وہی حقیقی فتح ہوتی ہے اور جو لڑائی یا گالیاں دینے سے فتح ہو، وہ شیطان کیلئے ہے خدا کیلئے نہیں۔ایسی فتح کی موجودگی میں پھر بھی خدا کا خانہ خالی رہے گا اور جب تم یہ سمجھ رہے ہوگے کہ یہ