خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 83 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 83

خطبات محمود ٨٣ سال ۱۹۳۳ء لے کر بیٹھے ہی تھے کہ ایک بچہ کھیلتے کھیلتے ان کے پاس آگیا۔انہوں نے پیار سے اسے اپنے پاس بٹھالیا۔گھر والوں نے جب یہ دیکھا کہ اُسترا ہاتھ میں ہے اور ہمارا بچہ پاس بیٹھا ہے تو اُن کا رنگ فق ہو گیا۔وہ ڈرے کہ کہیں بچے کو قتل نہ کردے۔صحابی نے ان کے چہروں کو بھانپ لیا کہ انہیں کیا خطرہ لاحق ہے اور کہا مسلمان غدار نہیں ہوتا۔اس بچے نے کیا قصور کیا ہے جو میں اسے قتل کروں ہے۔جس وقت وہ انہیں ھے مارنے کیلئے باہر لے گئے تو ایک شخص نے چھا کہ کیا آپ بتا سکتے ہیں اگر اس وقت آپ اپنے گھر میں آرام سے بیٹھے ہوتے اور محمد آپ کی جگہ ہوتے تو آپ کو کتنی خوشی ہوتی۔اس صحابی نے جواب دیا کہ یہاں محمد ہوں اور میں آرام سے گھر میں بیٹھا رہوں، یہ تو میرے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتا۔میں تو یہاں بیٹھا ہوا یہ بھی برداشت نہیں کر سکتا کہ محمد اس کے پاؤں میں کانٹا چھے اور میں آرام سے بیٹھا رہوں نے۔یہ وہ لوگ تھے جن کی نظروں میں موت کی کوئی حقیقت نہ تھی۔وہ ایمان کے لحاظ سے معصوم بچے تھے جیسے بچہ آگ میں ہاتھ ڈال دیتا ہے اسی طرح وہ بھی مصائب میں کود پڑتے۔مگر بچہ جہالت کی وجہ سے ایسا کرتا ہے اور وہ علم کی وجہ سے ایسا کرتے۔مینی چیز ہے جو انسان کو ایماندار ثابت کرتی ہے۔اور یہی چیز ہے جس سے کامیابی حاصل ہوا کرتی ہے۔پس اگر تم بھی چاہتے ہو کہ تمہیں اللہ تعالی کی طرف سے انعامات ملیں تو تم اس موت کیلئے اپنے آپ کو تیار کرو۔بہت ہیں جو اِس بات سے ڈرتے ہیں کہ انہیں مالی نقصان پہنچ جائے گا۔بہت ہیں جو ڈرتے ہیں کہ انہیں جانی نقصان پہنچ جائے گا۔بہت ہیں جو ڈرتے ہیں کہ لوگ انہیں گالیاں دیں گے یا دیتے ہیں۔مگر اس کے باوجود وہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا قرب انہیں حاصل ہو جائے گا۔اُس کی محبت ان کے دلوں میں قائم ہو جائے گی۔حالانکہ اللہ تعالی کی محبت اور بُزدلی کبھی اکٹھی نہیں ہو سکتی۔وہ شخص جو ہر وقت کی موت قبول کرنے کیلئے تیار نہیں، اسے خدا تعالی ہر وقت کی زندگی دینے کیلئے کیسے تیار ہو۔کیا چیز ہے انسانی زندگی؟ زیادہ سے زیادہ کوئی سو سال زندہ رہا یاڈیڑھ سو دو سو یا اڑہائی سوسال تک پہنچا۔لیکن اگر کوئی شخص اڑہائی سو سال کی موت قبول کرنے کیلئے تیار نہیں تو وہ کس طرح یہ خیال کر سکتا ہے کہ اربوں ارب سالوں کی بلکہ ایک غیر محدود زندگی اسے حاصل ہو جائے گی۔کتنی چھوٹی سی چیز ہے جس کی قربانی کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔اِس خیال کو جانے دو کہ یہ محدود قربانی ہے۔اس امر کو نظرانداز کردو کہ قربانی کی طاقتیں بھی اللہ تعالی کی مہیا کردہ ہیں۔اگر انسان اس