خطبات محمود (جلد 14) — Page 301
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء جب اس مفہوم کو اپنے دل میں بٹھاؤ گے تو اللہ تعالیٰ کی محبت تمہارے دل میں قائم ہوگی اور اس کا قرب تمہیں حاصل ہوگا۔ پس یا درکھو تمام ترقیات کا گر تو حید ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حسن کو ایسے رنگ میں ظاہر کرنا کہ باقی تمام حسن اس کے سامنے بے حقیقت ہو جائیں ۔ اسی طرح جس طرح سورج کے سامنے ستارے ماند پڑ جاتے ہیں اور نظروں سے غائب ہو جاتے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ یہ توحید کا مفہوم ہے۔ یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ باقی چیزیں معدوم ہو جاتی ہیں کیونکہ جسے خدا نے بنایا وہ معدوم کیسے ہو سکتا ہے۔ مگر خدا تعالیٰ کا حسن اس قدر ظاہر ہو کہ باقی تمام حسن ماند پڑ جائیں۔ اور سوائے اللہ تعالیٰ کے حسن کے اور کوئی حسن نظر ہی نہ آئے۔ یہی توحید ہے۔ اور جس وقت یہ مقام حاصل ہو جاتا ہے، اس وقت انسان کا دل کسی انسان کی محبت یہ کیلئے ۔ فارغ نہیں ہو سکتا۔ یہ تعلیم ہے، اسے دنیا کے سامنے پیش کرو ۔ رسول کریم صلی پیام کی وہ قربانیاں ظاہر کرو۔ اور آپ کی ان خدمات کو پیش کرو جو آپ نے نوع انسان کیلئے کیں ۔ ورنہ اگر یوں کرو گے تو ہندوؤں کے بازار میں سے گزرتے ہوئے یا محمد یا محمد کہو گے تو وہ سمجھیں گے یہ پاگل ہو گئے ہیں۔ لیکن اگر تم یہ بیان کرو گے کہ غیر قوموں پر رسول کریم صلی السلام نے کیا کیا احسانات کئے تو وہ بے اختیار آپ کے مداح ہو جائیں گے۔ تو تم تجربہ کر کے دیکھ لو کہ ان میں سے کون سا رسول کریم صلی الہ سلم کی محبت پیدا کرنے والا نسخہ ہے۔ تمہیں معلوم ہوگا کہ قربانیاں پاکیزگی اور اخلاق ہی ایسی چیز ہیں جن سے محبت پیدا ہو سکتی ہے نہ کہ یا محمد یا محمد کہنے سے۔ پس صحیح طریق اختیار کرو۔ قادیان والوں پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ یہ ہر وقت دین کی باتیں سنتے رہتے ہیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ اس دفعہ جلوس میں زیادہ عمدگی سے کام کیا جائے گا۔ اور کوئی ایسا طریق اختیار نہیں کیا جائے گا جس میں تماشہ ہو یا مشر کا نہ رنگ پایا جاتا ہو۔ ( الفضل ۱۰ ۔ دسمبر ۱۹۳۳ء) لبخاري كتاب المناقب باب قول النبي ﷺ سدوا الابواب الاباب ابي بكر بخاری کتاب الجنائز باب ما يكره من اتخاذ المساجد على القبور سے بخاری کتاب المناقب باب قول النبي ﷺ لو كنت متخذا خليلا البقرة : ١٨٤ 299