خطبات محمود (جلد 14) — Page 206
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء کے اساتذہ بجائے رخنہ ڈالنے کے لڑکوں کو درس میں لے آیا کریں تو تعداد میں کافی وسعت ہو سکتی ہے۔وہ کہنے کو تو یہ کہتے ہیں کہ ہم رخنہ نہیں ڈالتے لیکن میں ان سے پوچھتا ہوں کہ اگر انہوں نے رختہ نہیں ڈالا تو کیا وجہ ہے کہ طالب علم درسوں میں شامل نہیں ہوتے۔ہیڈ ماسٹروں کا طالب علموں پر اثر ہوتا ہے چاہے وہ بورڈ ر ہوں یا غیر بورڈر۔بورڈروں کی تعداد ہی اگر لی جائے تو دوسو کے قریب وہی طالب علم ہوں گے۔اور اگر ہیڈ ماسٹر اور اساتذہ بورڈروں کے ساتھ ہی دوسرے طالب علموں پر بھی اثر ڈالیں تو چار پانچ سو طالب علم شامل ہو سکتے ہیں۔اسی طرح لنگر والوں کی رپورٹ ہوتی ہے کہ اڑہائی تین سو آدمی روزانہ کھانا کھاتے ہیں اگر لنگر والوں کے دل میں دین کی تڑپ ہوتی تو وہ ان لوگوں سے کہتے کہ یہ روٹی تو آپ لوگوں کو گھر میں بھی مل سکتی ہے جس روٹی کیلئے آپ یہاں آئے ہیں وہ عصر کے بعد مسجد میں تقسیم ہوتی ہے آپ لوگوں نے اگر یہ کھانا کھایا ہے تو اس اصل کھانے میں بھی شریک ہوں۔بلکہ اب تو تعلیم و تربیت کیلئے مستقل مبلغ اور مولوی صاحب مقرر کئے جاچکے ہیں۔انہیں بھی یہ توفیق نہ ملی کہ وہ اپنے درس کے بعد لوگوں سے کہہ دیا کریں کہ ایک او درس بھی ہوتا ہے آپ لوگ اس میں بھی شریک ہوا کریں۔وہ سارے قادیان کی تربیت کیلئے مقرر کئے گئے ہیں۔ان کا فرض تھا کہ وہ گھر گھر جاتے اور محلوں میں وعظ کرتے کہ دلوں سے قرآن کی محبت اُٹھ رہی ہے آپ لوگ چلیں اور درس میں شامل ہوں۔معلوم ہوتا ہے انہوں نے بھی یہی کافی سمجھ لیا ہے کہ میرا جو درس ہو جاتا ہے پھر اور کسی درس میں شامل ہونے کی کسی کو کیا ضرورت ہے۔اس کی تو وہی مثال ہوئی جس پر ہم ہنسا کرتے ہیں کہ کوئی پنڈت علی الصبح نہانے کیلئے دریا کی طرف جا رہا تھا۔چونکہ سخت سردی تھی اس لئے وہ حیران تھا کہ کیونکر نہائے۔اتنے میں اس نے دیکھا کہ ایک اور پنڈت دریا کی طرف سے اشنان کر کے واپس آرہا ہے۔اس نے پوچھا کہ کس طرح اشنان کیا' سردی بڑی سخت ہے۔وہ کہنے لگا کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا کروں۔پانی میں نہیں گودا جاتا تھا، آخر میں نے ایک کنکر اٹھاکر دریا میں پھینک دیا اور کہا ”تو را اشنان سو مورا اشنان" یعنی جا کنکر تیرا نہانا میرا نہانا ہو گیا۔دوسرے نے سو کہا پھر یہ تو بڑی آسان بات ہے۔اس نے وہیں اس کو مخاطب کرکے کہہ دیا۔” تو را اشنان مورا اشنان" اور گھر واپس آگیا۔یہ طرز عمل کتنا دردناک ہے کہ ہر شخص سمجھ لے میرا جو درس ہو گیا اب کسی اور کے درس کی کیا ضرورت ہے۔مجھ سے بڑھ کر اور کون سا سمجھ دار