خطبات محمود (جلد 14) — Page 207
خطبات محمود ۲۰۷ سال ۱۹۳۳ء ہو سکتا۔ہے۔یہ نہایت ہی افسوسناک طریق ہے اس سے آہستہ آہستہ قلب پر زنگ لگ جاتا ہے اور بہت سے گناہ سرزد ہونے لگتے ہیں کیونکہ خدا کے کلام کی بے حرمتی معمولی چیز نہیں۔میں سمجھتا ہوں قرآن مجید کے سمجھنے اور سننے کی طرف اگر بڑے لوگ توجہ کرتے تو ان کے بچوں میں کئی قسم کے عیب پیدا نہ ہوتے۔کئی فتنے کئی بدیاں کئی برائیاں اور بے حیائیاں ایسی ہیں جن سے وہ بیچ سکتے تھے اگر وہ قرآن سننے آتے اور بچوں کو بھی ہمراہ لاتے۔کیونکہ قرآن سنا ہوا ضائع نہیں جاتا بلکہ اپنا اثر دکھاتا ہے۔مجھے یاد ہے جب میں درس دیا کرتا تھا تو دو ہندو بازار سے باقاعدہ آکر شامل ہوا کرتے تھے۔افسوس ہے ہندوؤں میں بھی اتنی نیکی ہو کہ وہ قرآن سننے کیلئے آجائیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قائم کردہ جماعت کے لوگوں میں درد پیدا نہ ہو۔میں سمجھتا ہوں شاید میری بیماری کا لمبا ہونا بھی تمہاری سزا کیلئے ہو کیونکہ تم قرآن ایک آدمی کیلئے سنتے تھے۔خدا تعالٰی نے کہا اچھا جب تم آدمی کیلئے قرآن سنتے ہو تو ہم اس آدمی کو توفیق ہی نہیں دیتے کہ وہ تمہیں قرآن سنا سکے۔قرآن کسی انسان کی خاطر نہیں سننا چاہیے بلکہ قرآن قرآن کی خاطر سننا چاہیے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بڑھ کر قرآن جاننے والا اور کون ہوگا۔مگر کیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد ہم نے قرآن کا پڑھنا چھوڑ دیا۔پھر حضرت خلیفۃ المسیح الاول کو قرآن سے کتنی محبت تھی۔مگر کیا ان کی وفات کے بعد ہم نے قرآن کا پڑھنا چھوڑ دیا۔اس وقت بھی قرآن دنیا کی ہدایت کا ذریعہ تھا، اب بھی ہے۔اور جب پھر دنیا میں شرارت پھیل جائے گی، ظلمت غالب آجائے گی اور ایک نئے موعود کی ضرورت ہوگی اس وقت بھی قرآن ہی لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ ہوگا۔آدمی مٹ جائیں گے، مر جائیں گے، فنا ہو جائیں گے ، بھلا دیئے جائیں گے مگر ایک کتاب ہے جو زندہ رہے گی جو نہیں بھلائی جائے گی اور وہ قرآن ہے اس سے محبت کرو تا دین سے تمہیں محبت ہو اور اللہ تعالیٰ کا نور حاصل کر سکو۔اللہ تعالیٰ کے عرفان کا ایک چھینٹا جب کسی وقت پڑ جاتا ہے تو آدمی کی زندگی سنور جاتی ہے۔عرفان بھادوں کی بارش کی طرح برستا ہے، کسی پر پڑتا ہے اور کوئی محروم رہ جاتا ہے۔جس پر وہ چھینٹا پڑ جاتا ہے وہ عارف بن جاتا ہے۔اس لئے جو لوگ اس چھینٹے سے حصہ لینے کیلئے باہر نکلتے رہتے ہیں کبھی نہ کبھی ان پر چھینٹا پڑ جاتا ہے۔لیکن وہ جو اندر بیٹھے رہیں وہ اس نور سے اس عرفان کے چھینٹے سے محروم رہتے ہیں۔پس آدمیوں پر نظر ڈالنا چھوڑ دو اور نہ صرف خود