خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 94 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 94

خطبات محمود ۹۴ سال ۱۹۳۳ء مگر اللہ تعالی کی عینک دنیا کو اپنے رنگ میں رنگین کر دیتی ہے۔وہ کہتا ہے زرد ہو جا اور وہ زرد ہو جاتی ہے۔وہاں تو صرف انعکاس کی ضرورت ہے۔پس ہمارے لئے گھبراہٹ کی کوئی بات نہیں۔ایک چیز ہے جو مقدر ہے۔اور ان مقدرات سے ہے جن میں تبدیلی نہیں ہو سکتی۔جیسا که فرمايا لا تَبْدِيلَ لِكَلِمت اللہ سے جس طرح ماں کے پیٹ کے بچہ کیلئے ضروری ہے کہ وہ انسان بنے خواہ چھوٹا یا بڑا بہر حال وہ انسانیت کے رستے پر چلے گا۔اگر وہ ضائع بھی ہو جائے تب بھی انسانیت کے رستہ پر ہی ہو گا۔اس کیلئے ایک رستہ مقرر ہے جس میں کوئی ردو بدل نہیں سکتا۔اسی طرح ہمارے لئے مقدر ہے کہ بہر حال اللہ تعالٰی کے مسیح کے ماننے والے غالب آئیں گے۔اس لئے یہ تو سوال ہی زیر بحث نہیں آسکتا کہ ہم جیتیں گے یا ہمارے مخالف، فتح اور جیت ہمارے لئے مقدر ہو چکی ہے۔سوال صرف یہ ہے کہ زید کے ہاتھ سے ہوگی یا بکر کے ہاتھ سے۔ہماری جدوجہد یہ ہے کہ ٹوٹ میں سے زیادہ سے زیادہ حصہ حاصل کر سکیں۔ہماری آپس کی کوشش ہے کہ ہر ایک دوسرے سے زیادہ حصہ ٹوٹ میں سے لینا چاہتا ہے اور جو جتنا سچائی اور اخلاص کے ساتھ خدمت کرے گا اور صحیح تو کل پر قائم ہو گا، اسی کے مطابق وہ حصہ پائے گا۔پس ہمارے سامنے یہ سوال نہیں کہ ہم جیتیں گے یا ہمارے مخالف بلکہ ہے کہ دشمن کی ہار سے زیادہ انعام کس کے حصہ میں آئیں گے۔پس حقیقت میں ہماری لڑائی غیر سے نہیں بلکہ آپس میں مقابلہ ہے۔یہ سوال نہیں کہ ثناء اللہ جیتے گا یا احمدی بلکہ یہ ہے کہ گجرات کی جماعت زیادہ حصہ حاصل کرے گی یا سیالکوٹ کی۔اللہ تعالی نے ہمارے لئے فتح مقدر کردی ہے۔لیکن اس میں سے حصہ پانے کا معاملہ ہم پر چھوڑ دیا ہے کہ یہ باہم طے کرلو۔اگر کسی کو اس کے متعلق کوئی وسوسہ ہے تو اسے سمجھ لینا چاہیئے کہ اس کی نظر کمزور ہے۔ایک اندھا دوسرے سے راہنمائی حاصل کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک رستہ بتایا لیکن اس میں اسے شبہ ہے۔اور اگر ہمارے اندر حوادث ہے گھبراہٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کے یہ معنے ہیں کہ ایک بینا سے ہم نے راستہ نہیں پایا۔پس ہماری جماعت کو اپنے اندر ایمان پیدا کرنا چاہیے اور ایسی نظر پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ ہم ان چیزوں کو دیکھ سکیں۔جن کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دیکھا۔اور اگر ان کو دیکھ لیں تو پھر کوئی گھبراہٹ ہمارے لئے باقی نہیں رہ سکتی۔بچوں والے گھر میں انسان روز دیکھتا ہے کہ ماں ادھر اُدھر کام میں لگی ہوتی ہے۔بچہ سوتے ہوئے اُٹھتا ہے اور رونے لگ جاتا ہے۔لیکن۔۔