خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 95 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 95

خطبات محمود ۹۵ سال ۱۹۳۳ء ماں جب کہتی ہے کہ میں پاس ہی ہوں تو وہ چُپ ہو جاتا ہے۔اسی طرح بعض لوگوں کو فتح نظر نہیں آتی اور وہ گھبرا کر روتے ہیں کہ اب کیا ہو گا۔لیکن آسمان کے فرشتے کہتے ہیں کہ فتح قریب ہے تو تسلی ہو جاتی ہے۔اور یوں بھی دیکھو، دنیا میں کون ہے جو خداتعالی کے کام میں رُکاوٹ پیدا کر سکے۔کیا کوئی ایسی ہستی ہے؟ اگر نہیں اور یقیناً نہیں اور پھر خدا نے ایک فیصلہ کر دیا ہے تو اس میں شبہ کی کیا گنجائش ہو سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اس کے وعدوں پر یقین رکھیں۔اور وہ بینائی عطا کرنے کہ جو کچھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور خدا کے دوسرے مقربین نے دیکھا وہ سارے دیکھ سکیں۔اور ہم میں سے کوئی ایسا نہ ہو جس کے دل میں کرب اور گھبراہٹ ہو کیونکہ یہ بیماری ہے جو قلتِ نظر کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔الذريت: ۵۰ الفضل ۲۰ - اپریل ۱۹۳۳ء) التوبة : ۴۰ + شرح مواهب اللدنية الجزء الثاني صفحه ۱۲۲ ۱۲۳ دار الكتب العلمية بيروت لبنان ١٩٩٦ء کے بخاری کتاب فضائل اصحاب النبی ا باب قول النبي سدوا الابواب الا باب ابي بكر ه یونس: ۶۵